خلیج کا بحران — Page 92
۹۲ ۱۶ نومبر ۱۹۹۰ء پھر اس طرح ٹکڑوں میں تقسیم ہونا شروع ہو جائے گا کہ اس کو پھر روکا نہیں جا سکتا۔دونوں آوازوں میں بڑا وزن معلوم ہوتا ہے لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اگر آخری وجہ تلاش کی جائے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ دونوں طرف خود غرضیاں بھی ہیں اور دونوں طرف عصبیتیں بھی ہیں۔ہندوستان نے تقسیم ہند کے بعد چھوٹی قوموں سے جو سلوک کیا ہے اس میں عصبیتوں نے بہت کام دکھائے ہیں، بہت کردار کیا ہے۔ہندو بھاری اکثریت ہے اور باوجود اس کے کہ ہندوستان کی ریاست مذہبی نقطہ نگاہ پر قائم نہیں ہوئی ہے، لیکن ہندو نے ایک قومیت اختیار کر لی ہے اور اپنی کثرت اور اکثریت کی بنا پر جو قوت ہندو کے ہاتھ میں ہے، اس قوت میں باقی چھوٹی قومیں شریک نہیں رہی ہیں اور فیصلے کی تمام تر طاقتیں ہندوؤں کے ہاتھ میں رہی ہیں۔خواہ وہ اپنی حکومت کو سیکولر کہتے چلے جائیں مگر امر واقعہ یہی ہے اور ہندوؤں ہی میں صرف ہندؤں کے ہاتھ میں نہیں بلکہ ہندوؤں کے ایک طبقے کے ہاتھ میں رہی ہیں۔جسے ہم برہمن طبقہ یا اونچی ذات کا طبقہ کہتے ہیں۔یہ وہ عصبیتیں تھیں جنہوں نے پھر آگے جھگڑوں کو جنم دیا ہے۔بنیادی طور پر سیاست کار فرما تھی لیکن اس بنیاد کے نیچے حقیقت میں عصبیتیں دبی پڑی تھیں اور ان عصبیتوں نے اس عمارت کو ضرور ٹیڑھا بنانا تھا جو عصبیتوں کے اوپر قائم کی جا رہی تھی۔پس ہندوستان میں اس وقت ہمیں جو بہت سے خطرات نظر آرہے ہیں اس کی آخری وجہ عصبیت ہے اور انصاف سے ہٹ کر خود غرضی کے نتیجے میں فیصلے کرنے کا رجحان ہے۔چنانچہ دیکھیں،اب جو مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیاں تفریق ہونا شروع ہوئی ہے اور بہت گہری Rift پڑ چکی ہے بہت گہری دراڑیں پڑ گئی ہیں۔اس کی بنا ہندو کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی عصبیت ہے اور مسلمان کہتے ہیں کہ ہندوؤں کی عصبیت ہے۔اسی طرح لسانی لحاظ سے ہندوستان میں جو خطرات ابھر رہے ہیں ان میں بھی دراصل عصبیتیں کام کر رہی ہیں۔جنوبی ہندوستان اس احساس محرومی میں مبتلا ہو رہا ہے کہ شمالی ہندوستان کی قومیں جو ہندی سے زیادہ آشنا ہیں یا سنسکرت سے کسی حد تک آشنا ہیں وہ سارے ہندوستان پر حکومت کر رہی ہیں اور ہندوستان میں جو تقریبا ۱۵۰۰ زبانیں بولی جاتی ہیں ان زبانوں سے منسلک قوموں کے ساتھ انصاف