خلیج کا بحران — Page 91
۹۱ ۱۶ نومبر ۱۹۹۰ء ہو جائے گی، یہ بات درست نہیں ہے۔میں خطرات کی بعض مثالیں آپ کے سامنے رکھوں گا جو اس سے بہت زیادہ بھیا نک خطرات ہیں جو عراق کی صورت حال سے دنیا کے سامنے آئے ہیں اور ان سے نہ صرف آنکھیں بند کی جارہی ہیں بلکہ لمبے عرصے سے آنکھیں بند کی گئی ہیں اور آئندہ بھی کی جائیں گی۔یہاں تک کہ بعض قوموں کے خود غرضی کے مفادات ان خطرات کی طرف انہیں متوجہ ہونے پر مجبور کریں گے۔قوموں میں نسلی خطرات اور لسانی اختلافات کے خطرات اور مذہبی اختلافات کے خطرات اور تاریخی جھگڑوں کے خطرات اور اس طرح کی بہت سی قسمیں ہیں جن میں ہم خطرات کو تقسیم کر سکتے ہیں اور ان کی مثالیں جب سامنے رکھتے ہیں تو ایک انسان حیران رہ جاتا ہے کہ کتنے بڑے آتش فشاں مادے ہیں، کتنے بھیا تک آتش فشاں مادے ہیں جو ساری دنیا میں جگہ جگہ دبے پڑے ہیں اور کسی وقت بھی ان کو چھیڑا جا سکتا ہے۔چند مثالیں میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔مذہبی سیاسی خطرات میں سے ہندوستان کی مثال آپ کے سامنے ہے۔وہاں پہلے سکھ قوم نے اپنے مذہب کی بناء پر ایک قومی تشخص اختیار کرتے ہوئے ہندوستان کی دیگر قوموں سے علیحدگی کا مطالبہ کیا۔یہ مطالبہ پاکستان کے تصور سے کچھ ملتا جلتا مطالبہ ہے۔لیکن خالصہ سیاسی مطالبہ نہیں تھا بلکہ مذہب اور سیاست نے مل کر ایک عصبیت کو پیدا کیا اور اس عصبیت کے نتیجے میں باقی قوموں سے اس ملک میں علیحدگی کا ایک رجحان پیدا ہوا۔اس کے برعکس اس کو دبانے کے لئے بھی عصبیتیں ابھری ہیں، اور اس جھگڑے میں دونوں طرف سے کسی نے بھی نہ مطالبہ کیا ہے کہ آپس میں مل بیٹھ کر انصاف کے تقاضوں کے مطابق ان جھگڑوں کو طے کریں اور یہ دیکھیں کہ کس حد تک انصاف اور حسن سلوک کے نظریے کے تابع یہ معاملات طے ہونے چاہئیں اور خطرات اگر سکھوں کو در پیش ہیں تو ان کا ازالہ ہونا چاہئے لیکن دونوں طرف سے یہی آواز بلند کی جارہی ہے کہ سکھ کہتے ہیں کہ ہندوستان کے ساتھ رہنا ہمارے لئے خطرہ ہے۔ہمارے مذہبی قومی تشخص کو ہندوستان کے ساتھ رہنا ہمیشہ کے لئے مٹا دے گا اور ہندوستان کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ اس آواز کو اگر ہم نے تسلیم کر لیا تو ہندوستان