خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 90 of 376

خلیج کا بحران — Page 90

ج کا بحران ۱۶ نومبر ۱۹۹۰ء والی بات ہے۔ان نئے انقلابی حالات کے نتیجے میں کچھ فائدے بھی پہنچے ہیں لیکن کچھ نقصانات بھی ہوئے ہیں اور ان نقصانات میں سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ مغرب اور مشرق کی نظریاتی تقسیم کے نتیجے میں جو عصبیتیں پہلے سے دبی ہوئی تھیں وہ اب ابھر کر سامنے آگئی ہیں اور دن بدن زیادہ ابھر کر مختلف علاقوں میں کئی قسم کے خطرات پیدا کرنے والی ہیں۔جب بہت بڑے بڑے خطرات در پیش ہوں، جب دنیا دو بڑے حصوں میں منقسم ہو تو بہت سے چھوٹے چھوٹے خطرات اُن خطرات کے سائے میں نظر سے غائب ہو جایا کرتے ہیں یا بعض دفعہ دب جاتے ہیں، ایسا ہی بیماریوں کا حال ہے۔بعض دفعہ ایک بڑی بیماری لاحق ہو جائے تو چھوٹی چھوٹی بیماریاں پھر ایسے انسان کو لاحق نہیں ہوتیں اور جسم کی توجہ اس بڑی بیماری کی طرف ہی رہتی ہے۔پس بنی نوع انسان کے لئے جو خطرات اب اُبھرے ہیں وہ اتنے وسیع ہیں اور اتنے بھیانک ہیں کہ جب تک ہم ان کا گہرا تجزیہ کر کے ان کے خلاف آج سے ہی جہاد نہ شروع کریں اس وقت تک یہ خیال کر لینا کہ ہم امن کے ایک دور میں ہیں، امن کے گہوارے میں منتقل ہو رہے ہیں یہ درست نہیں ہے بلکہ آنکھیں بند کر کے خطرات کی آگ میں چھلانگ لگانے والی بات ہو گی۔میں چند مثالیں آپ کے سامنے رکھنی چاہتا ہوں۔تا کہ تمام دنیا میں جماعت احمد یہ خصوصیت کے ساتھ ہر ملک میں جہاں بھی جماعت احمد یہ موجود ہے، اس کے دانشوروں تک یہ پیغامات پہنچا ئیں۔انہیں سمجھانے کی کوشش کریں اور ان پر جہاں تک ممکن ہے اخلاقی دباؤ ڈالیں کہ وہ اپنے ملکوں میں ان خطرات کے خلاف آواز بلند کریں اور اپنی اپنی رائے عامہ کوعلمی روشنی عطا کریں اور ان کو بتائیں کہ دنیا کو اس وقت کیا کیا خطرات درپیش ہیں۔آج اگر توجہ نہ کی گئی تو کل بہت دیر ہو جائے گی۔عراق کے جھگڑے میں جو بات کھل کر سامنے آئی وہ یہ نہیں تھی کہ ایک ظلم کے خلاف ساری دنیا متحد ہوگئی ہے۔اس حقیقت کو اس طرح دنیا کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے کہ دیکھو روس اور امریکہ کی صلح کے نتیجے میں یا ان دو بلا کس کے قریب آنے کے نتیجے میں اب ساری دنیا خطرات کا نوٹس لے رہی ہے اور امن عامہ کو جہاں بھی خطرہ در پیش ہوگا وہاں سب دنیا اکٹھی ہو کر اس خطرے کے مقابلے پر متحد