خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 87 of 376

خلیج کا بحران — Page 87

۸۷ ۹ نومبر ۱۹۹۰ء ہے اور ہم جب چاہیں جس گردن پر چاہیں یہ تلوار اس پر گرا کر اس کو تن سے جدا کر سکتی ہے تو تم دیکھو کہ یہ تلوار ہمارے ہاتھوں میں آ گئی ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ احمدیوں نے اس آواز کو سنا اور اس کی وجہ سے ان کے دلوں پر کئی قسم کے اندیشے قبضہ کر گئے، کئی قسم کے توہمات میں وہ مبتلا ہو گئے اور اس وقت ایسی ہی کیفیت دکھائی دے رہی ہے۔میں ان کو اسی مضمون کی ایک اور بات یاد کرانا چاہتا ہوں جس میں جو کچھ بھی میں نصیحت کر سکتا تھا اس کا بہترین خلاصہ بیان ہو گیا ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ایک غزوہ کے موقع پر اپنے غلاموں سے بچھڑ کر ا کیلے ایک درخت کے سائے میں آرام فرما رہے تھے کہ آپ کی آنکھ ایک للکار کی آواز سے کھلی۔ایک دشمن مسلمانوں سے نظر بچا کر آپ تک پہنچا اور آپ ہی کی تلوار اٹھا کر اس نے آپ کے سر پر سونتی اور کہا کہ اے محمد ! بتا اب تجھے میرے ہاتھوں سے اور میری اس تلوار سے کون بچا سکتا ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اسی طرح اطمینان سے لیٹے رہے اور فرمایا: میر اخدا۔( ترندی کتاب صفۃ القیامه حدیث نمبر: ۲۴۴۱) کتنی عظیم بات ہے۔تمام دنیا میں قیامت تک مومنوں پر آنے والے ابتلاؤں کا ایک ہی جواب ہے جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اس وقت اس ظالم کو دیا اور ہمیشہ ہر مؤمن ہر ظالم کو یہی جواب دیتا رہے گا اور اگر یہ جواب نہیں دے گا تو اس کے بچنے کی کوئی ضمانت دنیا میں نہیں ہے۔پس تم یہ نہ دیکھو کہ آج تلوار کس کے ہاتھ میں ہے تم یہ دیکھو کہ وہ ہاتھ کس خدا کے قبضے میں ہے۔وہ باز و کس قدرت کے تابع ہیں جنہوں نے آج تمہارے سر کے اوپر ایک تلوار سونتی ہوئی ہے۔یہ سمجھتے ہیں کہ یہ تلوار پہلے گرے گی مگر ہمارا خدا جانتا ہے اور وہ گواہ ہے کہ تلوار گرانے والوں پر اس کے غضب کی بجلی پہلے نازل ہوگی اور وہ ہاتھ شل کر دیئے جائیں گے جو احمدیت کو دنیا سے مٹانے کے لئے آج اٹھے ہیں یا کل اٹھائے جائیں گے۔اس تقدیر کو دنیا کی کوئی طاقت تبدیل نہیں کر سکتی۔گزند پہنچیں گے، تکلیفیں پہنچیں گی۔قرآن فرماتا ہے کہ ایسا ہو گا۔روحانی اور جذباتی