خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 88 of 376

خلیج کا بحران — Page 88

۸۸ ۹ نومبر ۱۹۹۰ء طور پر تم کئی قسم کی اذیتیں پاؤ گے لیکن اگر تم ثابت قدم رہو اور اگر محمد رسول اللہصلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے جواب پر ہمیشہ پوری وفا اور توکل کے ساتھ چمٹے رہو کہ اسے تلوار اٹھانے والے دشمن ! جس طرح کل میرے خدا نے خدا والوں کو تیری تلوار سے نجات بخشی تھی اور اپنی حفاظت میں رکھا تھا، آج بھی وہی زندہ خدا ہے۔اسی کی جبروت کی قسم کھا کر ہم کہتے ہیں کہ وہی خدا آج ہمیں تمہارے ظلم و ستم سے بچائے گا۔پس آپ کو اگر ان دعاوی سے تکلیف ہے تو مجھے ان احمدیوں کے اس رد عمل سے تکلیف پہنچی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ نعوذ بالله من ذلك یہ تلوار اب ان ہاتھوں میں آئی ہے کہ جو ضرور احمدیت کا سرکاٹ کے رہیں گے۔خدا کی قسم ایسا نہیں ہوگا۔ہمیشہ ان ظالموں کی مخالفت نے احمدیت کی ترقی کے سامان پیدا کئے ہیں، نئے راستے کھولے ہیں۔گزشتہ ابتلاؤں میں ضیاء کے گیارہ سال اس طرح کئے کہ ہرلمحہ اس کی چھاتی پر سانپ لوٹتے رہے مگر احمدیت کی ترقی کو وہ دنیا میں روک نہیں سکا اور آخر انتہائی ذلت کے ساتھ نامراد اور نا کام اس دنیا سے رخصت ہوا۔پس تلواروں کے بدلنے سے تمہارے ایمان کیسے بدل سکتے ہیں۔اپنے ایمانوں کی حفاظت کرو اور ثابت قدمی دکھاؤ اور اللہ پر توکل رکھو اور یقین کرو کہ وہ خدا جس نے یہ وعدہ کیا ہے کہ میں اور میرے رسول ضرور غالب رہیں گے وہ خدا اور اس کے رسول ضرور غالب رہیں گے اور ضرور غالب رہیں گے اور ضرور غالب رہیں گے۔انشاء اللہ تعالیٰ