خلیج کا بحران — Page 86
۸۶ ۹ نومبر ۱۹۹۰ء چوروں، اُچکوں ، بھیڑیوں اور دیگر مخلوقات سے خطرات پہنچتے رہتے ہیں اور تکلیف پہنچتی رہتی ہے لیکن قافلوں کے قدم تو نہیں رُک جایا کرتے۔ان کے گزرتے ہوئے قدموں کی گردان چہروں پر پڑ جاتی ہے جو ان کے خلاف غوغا آرائی کرتے ہیں اور شور مچاتے ہیں اور کچھ کاٹنے کی بھی کوشش کرتے ہیں اور تاریخ کی اس گرد میں ڈوب کر وہ ہمیشہ کے لئے نظروں سے غائب ہو جاتے ہیں۔ہاں ان مدفون جگہوں کے نشانات باقی رہ جاتے ہیں تو آپ تو لمبے سفر والی قوم ہیں۔ایسے لمبے سفر والی قوم ہیں جن کی آخری منزل قیامت سے ملی ہوئی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے جب یہ فرمایا کہ مسیح اور قیامت آپس میں ملے ہوئے ہیں تو بعض علماء نے یہ سمجھا کہ اس کا مطلب ہے کہ مسیح کے آتے ہی قیامت آجائے گی۔بڑی ہی جہالت والی بات ہے۔مراد یہ تھی کہ مسیح کا زمانہ قیامت تک ممتد ہوگا۔بیچ میں اور کوئی زمانہ نہیں آئے گا۔حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اپنی مثال بھی قیامت کے ساتھ اسی طرح دی اور اپنی اور مسیح کی مثال بھی اسی طرح دی کہ ہم دونوں اس طرح اکٹھے ہیں جس طرح اُنگلیاں جڑی ہوئی ہیں تو یہ مطلب تو نہیں تھا کہ بیچ میں زمانہ کوئی نہیں آتا۔مطلب یہ ہے کہ یہ زمانہ اس وقت تک ممتد ہوگا اور بیچ میں کوئی روک ایسی نہیں جو اس زمانے کو منقطع کر سکے اور پہلے کو دوسرے سے کاٹ سکے تو جس قوم کے اتنے لمبے سفر ہیں وہ ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں پر تکلیف محسوس کرنے لگے اور دل چھوڑ نے لگے یہ بات تو کوئی آپ کو زیب نہیں دیتی۔بات یہ ہے کہ اس نئی حکومت نے جب اقتدار سنبھالا اور ان کے ہاتھ میں اقتدار کی تلوار آئی تو کئی طرف سے خوف اور خطرہ کا اظہار کیا گیا لیکن اس حکومت کے سربراہوں نے یہ اعلان کیا کہ ہم شریف نواز لوگ ہیں ، ہم شرافت کو نوازنے والے ہیں اور شرفاء کو ہم سے ہرگز کوئی خطرہ لاحق نہیں۔غالبا ان ہی اعلانات کے اثر میں ایک شریف النفس ڈپٹی کمشنر نے وہ قدم اٹھایا جو اس نے اٹھایا لیکن دوسری طرف احمدیوں کے کانوں میں ایک اور آواز آرہی ہے اور وہ ملانوں کی آواز ہے۔وہ کہتے ہیں تم اس آواز سے دھو کہ نہ کھانا، اقتدار کسی کے قبضے میں ہو ظلم اور تعدی کی تلوار ہمارے ہاتھوں میں