خلیج کا بحران — Page 51
۵۱ ۲۶ اکتوبر ۱۹۹۰ء اور ہورہا ہے دیوار برلن کے گرنے سے جونئی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں ان کے نتیجے میں ظاہر ہونے والی عالمی تبدیلیوں سے متعلق کچھ ذکر میں نے اپنی جلسہ سالانہ کی آخری تقریر میں کیا تھا۔اُس میں ایک پہلو ہے نسل پرستی کے جذبے کا اُبھرنا۔یہ ایک بہت ہی اہم پہلو ہے جس کا اسلام سے براہ راست ٹکراؤ ہونے والا ہے۔اس لئے چونکہ صرف جماعت احمد یہ ہے جو درحقیقت اسلامی قدروں کی حفاظت کے لئے قائم کی گئی ہے اور حفاظت کی صلاحیت رکھتی ہے اور اللہ تعالیٰ سے تائید یافتہ ہے اس لئے جماعت احمدیہ کو اس خطرے کو خوب اچھی طرح سمجھنا چاہئے اور اس کی باریک راہوں سے بھی واقف ہونا چاہئے۔تا کہ جس راہ سے بھی یہ حملہ کرے اُس راہ سے جماعت بڑی بیدار مغزی کے ساتھ اور مستعدی کے ساتھ اس حملے کو نامراد اور نا کام کرنے کے لئے تیار ہو۔یورپ میں قوم پرستی اور نسل پرستی کے ابھرنے والے جذبات یورپ کی تبدیلیاں جن کا میں نے ذکر کیا ہے اُن کے نتیجے میں خود یورپ میں پہلے قوم پرستی اُبھرے گی اور پھر نسل پرستی۔قوم پرستی اور نسل پرستی کا آپس میں گہرا تعلق ہے صرف دائروں کا اختلاف ہے۔سب سے پہلے تو یہ بات آپ کو پیش نظر رکھنی چاہئے کہ روس کسی ایک قوم کے باشندوں پر مشتمل نہیں ہے۔دنیا میں مختلف قسم کی ریاستیں پائی جاتی ہیں بعض ریاستیں قوم کے تصور پر ابھرتی ہیں اور اُسی تصور پر قائم ہوتی ہیں بعض نظریات کے نام پر قائم کی جاتی ہیں جیسے کہ اسرائیل ہے یہاں دونوں باتیں اکٹھی ہوگئی ہیں مگر اکثر دنیا کے ممالک ایسے ہیں جن میں قوم کے نام پر ملک کا تصور محض ایک موہوم تصور ہے عملاً ایک سے زیادہ قومیں ان ملکوں میں بستی ہیں اور ان ملکوں کی ہمیشہ جد و جہد یہ رہتی ہے کہ قوم کے تفریق کی طرف اہلِ ملک کا دھیان نہ جائے ورنہ یہ ملک آپس میں پھٹ جائے گا۔یہ مسئلہ انگلستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے یعنی اندرونی لحاظ سے۔ایک طرف شمال میں سکاٹ لینڈ ہے پھر مغرب میں Wales ہے پھر مزید مغرب میں آئر لینڈ ہے اور پھر شمال اور جنوب سے اختلافات بھی ایک قسم کے قومی اختلاف کا رنگ اختیار کرتے جاتے ہیں۔