خلیج کا بحران — Page 50
20 ۲۶ اکتوبر ۱۹۹۰ء سے حفاظت کریں گے۔نسل پرستی کے جذبہ سے اسلام کا متوقع ٹکراؤ دوسرا پہلو Racialism یعنی نسل پرستی کا بڑی شدت کے ساتھ اُبھرنا ہے۔باوجود اس کے کہ آپ مغربی دنیا میں بکثرت نسل پرستی کے خلاف آواز سنتے ہیں اور نسل پرستی کا الزام کسی پر لگانا ایک بہت بڑی گالی سمجھا جاتا ہے لیکن یہ محض ایک دکھاوے کی بات ہے۔مغربی دنیا میں نسل پرستی کے خلاف جو بھی مہم چلائی گئی ہے یہ بڑے وسیع پیمانے پر یہود کی طرف سے چلائی گئی ہے اور اس کا رُخ صرف یہودی نسل پرستی کے خلاف تعصب کا قلع قمع کرنا ہے۔یعنی یہودیت میں جہاں تک نسل پرستی موجود ہے اُس کے خلاف مہم نہیں بلکہ یہودی نسل پرستی کے خلاف جو مختلف تحریکیں دنیا میں اُٹھتی رہتی ہیں اُن کو ملیا میٹ کر دینے کے لئے ایک بہت بڑا عالمگیر پرو پیگنڈا کیا جارہا ہے جس کا رُخ خاص طور پر یورپ اور امریکہ کی طرف ہے اور اس پہلو سے آج خصوصیت سے نازی دور کے نسل پرستی سے تعلق رکھنے والے ظلموں کو ابھار کر کبھی ڈراموں کی شکل میں، کبھی دوسری صورتوں میں کبھی مقالوں کی صورت میں اہل مغرب کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور متنبہ کیا جاتا ہے کہ دوبارہ کبھی اس قسم کی غلطی کا اعادہ نہ کرنا اور ساتھ ساتھ پرانے جنگی جرموں کی سزا آج تک جاری ہے اور یہ یاد دہانی کروائی جاتی ہے کہ اگر تم میں سے کبھی کسی نے پھر نسل پرستی کے جذبے سے یہود کی مخالفت کی یا اُن پر ظلم کرنے کا ارادہ کیا تو یا درکھنا تمہیں کبھی معاف نہیں کیا جائے گا۔پس در حقیقت یہاں جو نسل پرستی کے خلاف اب کوئی مہم آپ کو ملتی ہے وہ محض اس محدود دائرے سے تعلق رکھتی ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ نسل پرستی ان قوموں میں شدت کے ساتھ بڑھ رہی ہے لیکن اس نسل پرستی کا رُخ مشرقی دنیا ہے یا افریقہ کی دنیا ہے یا اسلام ہے جو ایک قوم کے طور پر بعض دفعہ پیش کیا جاتا ہے اور اُس کے خلاف نسل پرستی کے جذبات کو اُبھارا جاتا ہے۔بعض دفعہ مذہب اور معاشرے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور اس کے خلاف معاشرتی اور مذہبی جذبات کو ابھارا جا تا ہے۔روس میں جو کچھ ہوا