خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 52 of 376

خلیج کا بحران — Page 52

۵۲ ۲۶ اکتوبر ۱۹۹۰ء ان تمام اختلافات میں سیہ جو بڑے قومی اختلاف ہیں وہ سکائش اور انگلش ، ویلش اور انگلش اور آئرش اور انگلش کے اختلافات ہیں۔اب آپ دیکھیں کہ Great Britian یا United Kingdom در اصل ایک ملک ہے اور جب وسیع پیمانے پر بیرونی خطرات در پیش ہوں تو وہاں ان سب قوموں کے مفادا کٹھے ہو کر اُس ملک کو اندرونی طور پر تقویت دیتے ہیں اور اس وقت برٹش قوم کا وسیع تر تصور ابھرتا ہے۔جب امن کے حالات ہوں تو قومی رجحانات سر اٹھانے لگتے ہیں اور خطرات کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ایک دوسرے سے عدم اعتماد، ایک دوسرے سے خود غرضانہ تعلقات یا عدم تعلقات یہ چیزیں قوم کے رنگ میں اپنا اپنا اثر دکھاتی ہیں اور قومیت کے پیمانے پر تعلقات کو جانچا جانے لگتا ہے۔خود غرضی قومی سطح پر محض اس وجہ سے آپس میں تفریق پیدا کرتی ہے کہ ساؤتھ کے باشندے کہتے ہیں کہ ہم نے ساؤتھ کے مفاد کی حفاظت کرنی ہے۔انگریز سمجھتا ہے کہ ہم نے انگریز کے مفادات کو سکائش کے مفادات پر قربان نہیں ہونے دینا۔ویلش سمجھتا ہے کہ ہم سے زیادتی ہو رہی ہے اور Exploitation کی جارہی ہے اور جو حقوق ویلش کو ملنے چاہئیں وہ بقیہ انگلستان ہمیں نہیں دیتا غرضیکہ یہ ایک مثال ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ در حقیقت دنیا کی اکثر ریاستیں امریکہ ہو یا انگلستان ہو یا جرمنی ہو یا دیگر ریاستیں دراصل وہ ایک قوم پر مشتمل نہیں۔اہلِ علم کے نزدیک اگر کوئی ایک ملک حقیقاً ایک ہی قوم پر مشتمل ہے تو وہ ٹرکی ہے لیکن در حقیقت یہ بات بھی درست نہیں کیونکہ کردش قوم اپنے آپ کو ٹرکش قوم سے بالکل الگ سمجھتی ہے۔اُن کی قدریں اور اُن کی زبان، اُن کے مزاج عام ٹرکش سے بالکل مختلف ہیں اور یہی وجہ ہے ان دونوں قوموں کے درمیان شدید منافرت بھی پائی جاتی ہے، عدم اعتماد بھی پایا جاتا ہے اور کر د دنیا میں یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں اللہ بہتر جانتا ہے کہ کس حد تک درست ہے یا غلط کہ وہ لمبے عرصے سے ٹرکش قوم کے مظالم کا نشانہ بنے ہوئے ہیں لیکن اگر کسی حد تک کسی ایک ملک کو قومی ملک قرار دیا جا سکتا ہے تو گردی حصے کو چھوڑ کر باقی ترک قوم کو واقعہ ایک قوم اور ایک ملک ہونے کی فضیلت حاصل ہے یعنی نسبتاً اُن کے اوپر اس کا اطلاق پاسکتا ہے کہ ایک قوم اور ایک ملک ہے لیکن جہاں تک تر کی قوم کا تعلق ہے یہ