خلیج کا بحران — Page 351
۳۵۱ اپنے وطن سے جدا کر دیا اور ہیکل سلیمانی کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔۸ مارچ ۱۹۹۱ء اس کے بعد ۱ ۵۵ ق م یا ۳ ۵ میں اس کے لگ بھگ حضرت حزقیل نبی کی کوششوں اہل فارس سے تعلقات کا ایک سلسلہ شروع ہوا تھا اور ھاروت ماروت کا جو ذکر قرآن کریم میں ملتا ہے یہ وہی زمانہ ہے اس کے نتیجے میں ان سے انہوں نے مدد حاصل کی۔اگر چہ یہ انقلاب بعد میں آیا لیکن یہ حضرت حزقیل کے زمانے میں ہی شروع ہوا تھا۔چنانچہ نبو کد نضر کے دوسرے شدید حملے کے ۴۸ سال بعد یعنی اس حملے کے ۴۸ سال بعد جس میں اس نے یروشلم کی بستی اور فلسطین کو کلیہ تباہ برباد کر دیا تھا۔اہل فارس کی مدد سے یہود کو دوبارہ ارض مقدس پر غلبہ نصیب ہوا اور یہ واقعہ ۵۳۹ قبل مسیح کا ہے جبکہ سائرس (Syrus) بادشاہ کی مدد سے یہود کو واپس یروشلم میں لے جا کر آباد کر دیا گیا اور اس کے بعد پھر ان کو کئی سو سال تک وہاں رہنے کی توفیق ملی اور جیسا کہ بعض دوسری کتب میں پیشگوئی کے رنگ میں یہ درج ہے کہ یہ دونوں شہر دوبارہ کیسی ہو جائیں گے اور دوبارہ گندگی اختیار کریں گے اور پھر ان کو سزا ملے گی۔پس قرآن کریم نے جو نقشہ کھینچا ہے کہ مقدر تھا کہ دو دفعہ تم زمین میں فساد کرو دو دفعہ تم بغاوت کر و بعینہ اسی طرح ہوا ہے پہلے فساد برپا کیا۔اس کے بعد دوسری قومیں آئیں پھر انہوں نے ان کے خلاف بغاوت کی اور بغاوت کے بعد کچلے گئے ہیں۔چنانچہ دوسری دفعہ کے بعد جب سزا کا سلسلہ شروع ہوا تو رومن بادشاہ Pompey نے ۶۳ قبل مسیح میں جودا Judah پر قبضہ کر لیا اور پھر وہاں سے ان کی تباہی کا آغاز کیا لیکن اس کے باوجود ۱۳۲ بعد مسیح تک یہ تباہی مکمل نہیں ہوئی ۱۳۲ بعد مسیح میں Hadrian (ہیڈرین ) جو ایک بہت بڑا رومن Emperor ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ رومن بادشاہوں کی تاریخ میں غیر معمولی مقام رکھتا ہے۔یہ وہی بادشاہ ہے جس کی سلطنت انگلستان سے لے کر افریقہ تک اور پھر دریائے فرات تک پھیلی ہوئی تھی اور انگلستان بھی اس کو آنے کا موقعہ ملا۔یہاں شمال میں ایک دیوار ہے جس طرح دیوار چین بنائی گئی ہے۔بعض کہتے ہیں کہ یہ کوئی 80 میل بعض کہتے ہیں 74-76 میل ہے۔یہ ایک بہت بڑی دیوار ہے جو آج تک