خلیج کا بحران — Page 350
۳۵۰ ۸ مارچ ۱۹۹۱ء لِلْكَفِرِيْنَ حَصِيرًا اس کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں پھر اور کوئی چوتھی حرکت ان کی طرف سے نہیں ہوگی کیونکہ پھر جہنم کا ذکر ہے۔اس کے بعد دنیا کے معاملات طے اور ختم پھر آخری فیصلہ قیامت کے بعد ہوگا اور جہنم کے ذریعے سزادی جائے گی۔پہلے دو وعدوں کے متعلق میں مختصر ابتا دوں کہ کس طرح ہوئے ، ایک وعدہ تو شروع ہوا 721 قبل مسیح میں جبکہ اسیرینز (Assyrians) نے یہود کی دومملکتوں میں سے شمالی مملکت کو تاخت و تاراج کیا اور اس پر قبضہ کر لیا اور یہ سماریہ بستی سے تعلق رکھنے والی مملکت تھی جسے اسرائیل کہا جاتا تھا۔پس 721 قبل مسیح میں یہ واقعہ شروع ہوا، مکمل نہیں ہوا۔اس کی تکمیل 597 قبل مسیح سے شروع ہوئی اور 587 قبل مسیح میں پھر وہ دور اپنے درجہ کمال کو پہنچا یعنی وہ طاقت جس کو توڑنے کا آغاز اسیر مینز سے ہوا تھا۔124 سال کے بعد دوسرا سلسلہ (اس کے توڑنے کا ) شروع ہوا اور اس دفعہ بابلیوں میں سے نبو کد نضیر (Nebchadnezzar) نے یہودیوں کی بقیہ مملکت پر جسے جو دیا کہا جاتا تھایا جو د Judah بھی کہتے ہیں اور جس میں یروشلم دارالخلافہ ہے اس پر حملہ کیا۔پس یا درکھیں کہ اس وعدے کے مطابق پہلا حملہ اسرائیل کو یعنی یہودیوں کی سلطنت کو ارض کنعان میں توڑنے کے لئے ۷۲۱ قبل مسیح میں ہوا اور اسیرین نے اس کا آغاز کیا اور اس کی تکمیل کے لئے دوسرا سلسلہ بنو کد نضیر نے ۵۹۷ قبل مسیح میں شروع کیا اور ۵۸۷ قبل مسیح میں مکمل کیا۔دونوں دفعہ یہود کی طاقت کو شدید ضر میں لگائی گئیں لیکن دوسری دفعہ عملاً اسے بالکل ملیا میٹ اور نیست و نابود کر دیا گیا۔بے شمار یہودیوں کو قیدی بنا کر نبو کر نفر ساتھ لے گیا اور اس میں حضرت حز قیل بھی ساتھ تھے اور حضرت حزقیل کی کتاب سے پتا چلتا ہے کہ یہ سزا جو یہود کو لی تھی یہ اس لئے ملی تھی کہ ان کی کتاب میں جو الہی محاورہ ہے وہ یہ ہے کہ ان دو بستیوں کی مثال دو کسی عورتوں کی طرح ہو گئی تھی جو اپنا جسم بیچتی ہیں اور بے حیائی میں حد سے بڑھتی چلی جاتی ہیں اور غیروں کو اپنا دوست بناتی ہیں اور خدا سے دوستی توڑ رہی ہیں۔بہت ہی خوفناک نقشہ کھنچا گیا ہے اور فرمایا کہ پھر جیسی سزا مقدر تھی خدا نے ان سے پھر تعلق تو ڑ لیا اور کہا اے کسی عور تو ! جس کی تم ہو اسی کی ہور ہو۔چنانچہ واقعہ" نبوکدنفر نے ان کسبیوں کو اٹھا کر