خلیج کا بحران — Page 352
۳۵۲ ۸ مارچ ۱۹۹۱ء قائم ہے یہ اسی Hadrian بادشاہ نے بنائی تھی۔پس جب یہودیوں نے وہاں دوبارہ بغاوت کی تو اس بغاوت کو کچلنے کے لئے Hadrian بادشاہ نے اپنے اس جرنیل کو واپس بلا لیا جو انگلستان پر حکومت کرتا تھا اور اس نے غالباً یہاں اپنا تسلط جمائے رکھا تھا۔بہت قابل جرنیل تھا اس کو بلا کر یہود کو کچلنے کے لئے بھجوا دیا۔یہ واقعہ ۱۳۲ء کے لگ بھگ ہوا سو فیصدی تاریخ دان متفق نہیں لیتے ہیں۔۱۳۲ء سے لے کر ۱۳۳ ۳۴ تک یہ معاملہ مکمل ہو گیا تھا اس نے ان کو ایسا خوفناک مزا چکھایا ہے بغاوت کا کہ مورخین کہتے ہیں کہ 5لاکھ یہودیوں کو وہاں تہ تیغ کیا۔پہلے تو مجھے خیال آیا یہ ہو نہیں سکتا۔یہ غلطی ہوگی لیکن جب میں نے قرآن کریم کی پہلی پیشگوئی کو پڑھا کہ ہم تمہیں بہت اولا در یں گے اور بہت برکت تمہارے نفوس میں دیں گے تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بالکل درست تاریخی واقعہ ہے۔واقعہ اس زمانے کے لحاظ سے 5 لاکھ کے قریب یہودی وہاں ہلاک کئے گئے اور مسجد کو دوبارہ نیست و نابود کر دیا گیا۔پس دو دفعہ ہیکل سلیمانی تعمیر ہوا اور دو دفعہ برباد ہوا۔یہ سب کچھ جب ہو چکا تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يَرْحَمَكُمْ وَ اِنْ عُدْتُمْ عُدْنَا وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَفِرِيْنَ حَصِيرًا ابھی بھی خدا تعالیٰ کو ہوسکتا ہے تم پر رحم آجائے یعنی یہ دو ہلاکتیں پوری ہوگئیں۔دو پیشگوئیاں اپنے وقت پر پوری ہو کر ختم ہوئیں لیکن عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يَرْحَمَكُمْ یہ کب ہونا ہے اور کس طرح ہونا ہے اس کے متعلق اسی سورت کے آخر پر یہ آیت ہے ، جو آنحضرت کے زمانے کے مضمون سے تعلق رکھنے والی آیت ہے اور اسی مضمون میں گھری ہوئی یہ آیت ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ رحم کا واقعہ دور آخر میں حضرت محمد مصطفی ﷺ کے زمانے میں آپ کی امت کے وقت میں ہونا تھا۔چنانچہ فرمایا: وَقُلْنَا مِنْ بَعْدِهِ لِبَنِي إِسْرَاءِ يْلَ اسْكُنُوا الْأَرْضَ فَإِذَا جَاء وَعْدُ الْآخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيقًا (بنی اسرائیل : ۱۰۵) کہ جب وہ وعدہ آخر آئے گا جبکہ ساری دنیا سے تمہیں اکٹھا کر کے دوبارہ اس زمین پر لے کر آنا ہے تو اس وقت خدا کی تقدیر ایسا انتظام کرے گی اور تم سب لوگوں کو اکٹھا کیا جائے گا۔یہ واقعہ پہلی دفعہ ہوا ہے۔