خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 224 of 376

خلیج کا بحران — Page 224

۲۲۴ ۸ فروری ۱۹۹۱ء بش کا امن کا خواب دراصل امن کا خواب نہیں بلکہ موت وارد کرنے کا خواب ہے بعض لوگ غلطی سے موت کو امن سمجھ لیتے ہیں۔جس طرح میں نے وہ بیمار گھوڑے کی مثال کئی دفعہ بیان کی ہے۔ایک گھوڑا بہت بیمار تھا جو بادشاہ کو بہت پیارا تھا بہت تڑپ رہا تھا۔بادشاہ نے کہا کہ جو اس کی موت کی خبر مجھے پہنچائے گا اس کو میں قتل کروادوں گا۔وہ خدا کی تقدیر چلنی تھی وہ بے چارہ مر گیا۔ایک آدمی کو پکڑ کے بادشاہ کو خبر دینے کے لئے بھجوایا اس کو مجبور کیا کہ تم نہیں جاؤ گے تو ہم ماریں گے ، بادشاہ کے ہاتھ سے مارا جانا زیادہ بہتر ہے۔وہ سمجھدار آدمی تھا اس نے جا کر بادشاہ کو کہا کہ مبارک ہو آپ کا گھوڑا پوری طرح امن میں آگیا ہے بادشاہ بہت خوش ہوا کہ اچھا بتاؤ کہ کس طرح امن میں آگیا ہے اس نے کہا اس طرح کہ پہلے تو اس کی چھاتی کی گڑگڑاہٹ کی آواز میل میل تک سنائی دیتی تھی اب تو میں قریب بھی گیا ہوں تو کوئی آواز نہیں آرہی تھی۔اس کی دل کی دھڑکن سے لگتا تھا دھرتی دھڑک رہی ہے زمین دھڑک رہی ہے اب میں نے کان لگا کے دیکھا بالکل آواز ہی کوئی نہیں تھی۔بڑے امن اور سکون سے لیٹا ہوا ہے تو اس نے کہا کہ پھر یہ کیوں نہیں کہتے بد بخت ! کہ مر گیا ہے۔اس نے کہا حضور کہہ رہے ہیں میں تو نہیں کہہ سکتا۔تو قصہ یہ ہے کہ جو امن کا خواب صدر بش مشرقی وسطی اور مسلمانوں کے ممالک کے لئے دیکھ رہے ہیں اس کی تعبیر موت ہے خواب خواہ امن کے نام پر ہو اس کے سوا اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور جہاں تک میں نے سوچا ہے وہ خواب یہ ہے کہ تیل کے امیر ملک سعودی عرب اور شیخ ڈم ریاستوں وغیرہ کو آمادہ کیا جائے گا کہ وہ بھیک کے طور پر اپنی تیل کی آمد کا ایک حصہ ان عرب ممالک میں تقسیم کریں جو تیل کی دولت سے محروم ہیں یا بہت تھوڑا تیل رکھتے ہیں اور اس کے نتیجے میں جس طرح American Aid کے ذریعہ تیسری دنیا کے ملکوں کو غلام بنایا جاتا ہے عرب ملکوں کو بعض عرب ملکوں کا غلام بنا دیا جائے اور اس کے نتیجے میں جو Strings ایڈز (Aids) کے ساتھ وابستہ ہوا کرتی ہیں اسی قسم کی سٹرنگز اس مالی امداد کے ساتھ بھی لگا دی جائیں۔امریکہ کی مالی امداد جسے American Aids کہا جاتا ہے ہمیشہ بعض سیاسی مصالح کی شرائط