خلیج کا بحران — Page 225
۲۲۵ ۸ فروری ۱۹۹۱ء رکھتی ہیں جو امریکہ کے مفاد میں ہوتی ہیں اس ایڈ کے ساتھ بھی کچھ شرائط ہیں جو اسرائیل کے مفاد میں ہوں گی اور مغرب کے عمومی مفاد میں۔وہ شرائط یہ ہوں گی کہ یونائیٹیڈ نیشنز میں جھگڑا نہیں لے کے جانا بلکہ یونائیٹڈ نیشنز سے باہر امریکن سرپرستی میں یہود کے ساتھ معاملات طے کرو اور یہ ضمانت دو کہ آئندہ کبھی اس علاقے میں تم کسی قسم کی جنگ کی جرات نہیں کرو گے۔اس بات کی ضمانت دو کہ جہاں یہود ایٹمی اسلحہ بناتا رہے گا اور Mass Destruction کے دوسرے ہتھیار تیار کرتا رہے گا تم میں سے کبھی کوئی ایٹمی اسلحہ بنانے اور Mass Destruction کے ہتھیار بنانے کے خواب بھی نہیں دیکھے گا۔یہ دو بنیادی نقوش ہیں اس امن کی خواب کے جو صدر بش نے دیکھی ہے اور آپ کل دیکھیں گے کہ اسی طرح ہوگا۔اس خواب کے بعض اور حصے بھی ہیں۔وہ ہوسکتا ہے پورے ہوں یا نہ ہوں۔ایک حصہ یہود کو بعض اقدامات پر مجبور کرنے سے تعلق رکھتا ہے۔مراد یہ ہے کہ یہود کو یہ کہیں گے، یہود کہنا غلط ہے یہود میں سے بعض بہت شریف النفس آج ایسے یہود بھی ہیں جو اسرائیل کے شدید مخالف ہیں اور ان کی پالیسیوں کو رد کرتے ہیں اور ان کو دنیا کے لئے ہی نہیں بلکہ خود یہود کے لئے بھی نقصان دہ سمجھتے ہیں۔پس جب میں لفظ یہود کہتا ہوں تو ہرگز مراد نہیں کہ یہود قوم کو بحیثیت مجموعی مردود کر رہا ہوں، میری مراد اسرائیل سے ہی ہوتی ہے۔بہر حال اسرائیل پر وہ یہ دباؤ ڈالنے کی کوشش کریں گے یعنی خیال ہے ان کا یہ گمان ہے ، خواب ہے کہ وہ کلیہ گولان ہائیٹ کا علاقہ خالی کردے اور Jordon کے مغربی کنارے کا علاقہ خالی کر دے اس کے نتیجے میں وہ وہاں صلح کروالیں گے۔یہ بات قطعی ہے کہ گولان ہائیٹ کا پورا علاقہ اسرائیل کسی قیمت پر خالی نہیں کرے گا اور یہ بات قطعی ہے میرے نزدیک کہ Jordon کے مغربی کنارے پر جو یہود کا تسلط ہے وہ اس کو ختم نہیں کرے گا لیکن اس کے باوجود ان کے تمام Allies یعنی تمام عرب مسلمان Allies ان کی کارروائیوں سے راضی ہوں گے اور جس سمجھوتے کا میں نے ذکر کیا ہے اس میں شامل ہو جائیں گے وجہ یہ ہے کہ مغربی اردن پر یہود کے تسلط کا نقصان صرف فلسطینیوں کو اور شرق اردن کو ہے