خلیج کا بحران — Page 223
۲۲۳ ۸ فروری ۱۹۹۱ء سے ہوئی ہے۔تو اس تاریخی پس منظر میں گویا کہ ایک حق یہود کا یہ بھی تسلیم کر لیا گیا کہ یہود کو اجازت ہے کہ وہ Terrorist کارروائیاں کریں اور اس کا نام ہم یہودی ٹیررازم نہیں رکھیں گے لیکن مسلمان حکومتوں کو اپنے سیاسی مفادات کی خاطر کسی قسم کی Terrorist کارروائی کی اجازت نہیں اگر کر یں گے تو ہم صرف ان کو ہی نہیں بلکہ اسلام کو بدنام کریں گے اور کہیں گے Islamic Terrorism ہے اور جو حقوق ان کے تسلیم کئے ہوئے نظر آتے ہیں وہ میں آپ کو پوائنٹس کے طور پر بتا تا ہوں۔سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کو رد کرنے کا حق ہے یہود کو اور یونائیٹڈ نیشنز کے تمام فیصلوں کو تحقیر کی نظر سے دیکھنے اور اس طرح رد کرنے کا حق ہے جس طرح ایک پرزے کو پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جاتا ہے۔اور کسی ملک کا حق نہیں ہے کہ یہود کی مذمت کرے اس بارے میں۔یہود کو حق حاصل ہے کہ اپنی بقاء کے نام پر دوسرے ملکوں کے جغرافیے تبدیل کرے اور یہود کو حق ہے کہ وہ ایٹم بم بنائے اور ایٹم بموں کا ذخیرہ جمع کرے اور Mass Destruction کے ہتھیار مثلاً کیمیکل وار فیئر کے اور بیالوجیکل وار فیئر کے کیمیاوی ہلاکتوں کے اور جراثیم کی ہلاکتوں کے ہتھیار تیار کرے اور کسی کو حق نہیں کہ اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنائے لیکن کسی مسلمان ملک کو یہ حق حاصل نہیں۔یہ خلاصہ ہے اس تاریخی جدو جہد کا جس کا ذکر میں نے آپ کے سامنے کیا ہے۔بش کا امن کا خواب یہ بات قطعی ہے کہ اس پالیسی میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی ہے آج تک نہ آئندہ کی جائے گی۔یہود کے یہ حقوق قائم رکھے جائیں گے اور مسلمانوں کی ان معاملات میں حق تلفی ایک مستقل پالیسی کا حصہ ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔اس کی روشنی میں ہم دیکھتے ہیں کہ صدر بش کا New World Order کا خواب کیا ہو سکتا ہے؟ کیونکہ جب تک اس خواب کو نہ سمجھیں ہم ان کو صحیح مشورہ بھی نہیں دے سکتے۔میں نے جہاں تک غور کیا ہے اس جارحانہ تاریخی پس منظر کے نتیجے میں