خلیج کا بحران — Page 208
۲۰۸ ۸ فروری ۱۹۹۱ء کیا جائے۔اس کے اعضاء کاٹے جائیں، پہلے ناخن نوچے جائیں، پھر انگلیاں کاٹی جائیں ، پھر دانت نکالے جائیں، پھر ہاتھ پاؤں کاٹے جائیں اور اس کے بعد کہا جائے کہ اے بہادرو! اور شیر و! اب اس شخص پر حملہ کر دو اور جب تک یہ یقین نہ ہو جائے کہ وہ اپنے ٹنڈے ہاتھوں سے ایک چیڑ بھی نہیں مار سکے گا اس وقت تک بہادروں کو اس پر حملہ کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔یہ خلاصہ ہے میرے الفاظ میں اس موجودہ جنگ کا اور امریکی جرنیل جو اس وقت یہ جنگ لڑا رہے ہیں وہ عراق کے سکڈ میزائلز وغیرہ کے متعلق ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے اس قسم کے یہ حملے ایسے ہی ہیں جیسے ایک ہاتھی پر مچھر بیٹھ جائے اور عملاً یہ ایک ہاتھی ہی کی نمائندگی کرنے والی طاقتیں ہیں اور اس کے مقابل پر جس کو وہ نئے زمانے کا ہٹلر کہتے تھے اس کی حیثیت عملاً یہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ ہمارے مقابل پر ایک مچھر سے زیادہ نہیں۔تو جب تک یہ ہاتھی اور مچھر کی لڑائی جاری ہے اس وقت تک جہاں تک میں سمجھتا ہوں اس صدی کا مسلمانوں کے خلاف سب سے زیادہ ہولناک اور خوفناک منصوبہ اپنے پائیہ تعمیل کو پہنچ چکا ہوگا اور اس کے بعد پھر یہ نئی صدی میں داخل ہونے کے منصوبے بنا ئیں گے۔لیکن میرا کام جنگ کی خبروں پر تبصرہ کرنا نہیں اور جماعت احمدیہ کو مسلسل یہ بتانا مقصود نہیں کہ اب جنگ میں کیا ہوا اور کل کیا ہوا تھا اور آئندہ کیا ہوگا۔میرا مقصد یہ ہے کہ اس جنگ کا پس منظر آپ کے سامنے کھول کر رکھوں اور تاریخی پس منظر کی روشنی میں تمام دنیا کے احمدی اور ان کے ساتھ دوسرے مسلمان بھائی جن تک وہ آواز پہنچا سکتے ہیں۔اس صورت حال کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ ہو کیا رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے اور مغربی قوموں نے اس میں آج تک کیا کردار ادا کیا ہے اور آئندہ کیا کریں گی اور اقوام متحدہ نے یا اس سے پہلے لیگ آف نیشنز League of Nations نے کیا کردار ادا کیا تھا اور ان کے آپس میں کیا رابطے ہیں؟ اور یہود کے ساتھ ان کے کیا تعلقات ہیں؟ اور کیوں وہ تعلقات ہیں؟ اس میں مسلمانوں کی غلطیوں کا کہاں تک دخل ہے؟ اور اس سب تجزیے کے بعد میرا اراداہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توفیق کے مطابق آپ کے سامنے وہ مشورے رکھوں گا جو الگ الگ قوموں کو مخاطب کر کے دوں گا یعنی میرے نز دیک اس سارے مسئلے کو