خلیج کا بحران — Page 207
۲۰۷ بسم اللہ الرحمن الرحیم بش کے نظام جہان نو“ کی حقیقت ( خطبه جمعه فرموده ۰۸ فروری ۱۹۹۱ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔۸ فروری ۱۹۹۱ء غالباً چھ ماہ پہلے یا کم و بیش اتنا عرصہ پہلے میں نے بغداد پر ہونے والے ہلاکو خاں کے حملے کا ذکر کیا تھا اور متنبہ کیا تھا کہ اس قسم کی ہلاکت آفرینی کی تیاریاں کی جارہی ہیں، فیصلے ہو چکے ہیں اور مجھے خطرہ ہے کہ اگر صدر صدام نے احتیاط سے قدم نہ اٹھائے تو ایسی خوفناک ہلاکت خیزی کی جنگ اس پر ٹھونسی جائے گی کہ جس کے نتیجے میں ہلاکو خاں کی باتیں بھی خواب و خیال کی باتیں ہو جائیں گی۔خلیجی جنگ کی نوعیت اس عرصے میں جو کچھ رونما ہوا ہے وہ اتنا ہولناک ہے اور اتنا دردناک ہے کہ اس کی جتنی خبر میں اب تک دنیا کومل چکی ہیں انہی کے نتیجہ میں تمام عالم اسلام کے دل خون ہورہے ہیں لیکن جو خبریں اب تک ظاہر ہو چکی ہیں وہ ان خبروں کا کوئی 20 واں 100 واں حصہ بھی نہیں جو رفتہ رفتہ اس جنگ کے بعد ظاہر ہوں گی اور جن سے بعد میں پردے اٹھیں گے۔میرے اندازے کے مطابق لکھوکھا شہری اور فوجی ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں اور بہت بڑی تباہی ہے سویلین آبادی کی جو ابھی تک کسی شمار میں نہیں لائی جاسکی لیکن اس کے علاوہ فوجیوں کے خلاف جس قسم کی کارروائی ہے وہ جنگ کی کیفیت نہیں بتاتی بلکہ اس طرح ہی ہے جیسے کسی ایک شخص کو باندھ کر رفتہ رفتہ اس کو Dismember