خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 181 of 376

خلیج کا بحران — Page 181

۱۸۱ ۲۵ جنوری ۱۹۹۱ء بے قراری پائی جاتی ہے۔وہ ان کا متکبرانہ رویہ ہے۔خاص طور پر امریکہ کے صدر جب بات کرتے ہیں عراق کے متعلق یا دوسری ان قوموں کے متعلق جوان سے تعاون نہ کر رہی ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے دنیا میں ایک خدا اتر آیا ہے اور خدا بات کر رہا ہے اور جو موحد ہو وہ تکبر کے سامنے سر جھکا ہی نہیں سکتا۔شرک کی مختلف قسمیں ہیں لیکن سب سے زیادہ مکروہ اور قابل نفرت شکل تکبر ہے۔پس تکبر کے خلاف آواز بلند کرنا موحد کا اولین فریضہ ہے اور جماعت احمد یہ دنیا کے موحدین میں صف اول کی موحد جماعت ہے بلکہ تو حید کی علمبردار جماعت ہے توحید کا جھنڈا آج جماعت احمدیہ کے ہاتھوں میں تھمایا گیا ہے اس لئے ہم ہر شرک کے خلاف آواز بلند کریں گے۔ہر تکبر کے خلاف آواز بلند کریں گے اور دنیا کا کوئی خوف ہماری اس آواز کا گلا نہیں گھونٹ سکتا کیونکہ وہ مصنوعی خدا جو دنیا کی تقدیر پر قابض ہونے کی کوشش کرتے ہیں ان کے سامنے سر جھکانا اور موحد ہونا بیک وقت ممکن ہی نہیں۔جب میں ایسے تبصرے کرتا ہوں تو بعض احمدی مجھے لکھتے ہیں، ہیں ہیں ! ہمیں آپ کی فکر پیدا ہوتی ہے آپ کیوں ایسی باتیں کرتے ہیں۔میں ان کو یاد دلاتا ہوں کہ میں اس لئے ایسی باتیں کرتا ہوں کہ میرے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم بھی ایسی ہی باتیں کیا کرتے تھے۔جب آپ نے توحید کے حق میں آواز بلند کی تو مکہ کیا تمام دنیا نے آپ کی مخالف تھی۔آپ کی منتیں کی گئیں۔آپ کو سمجھایا گیا کہ کیوں اپنی جان کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔آپ کو علم نہیں کہ کتنی کتنی خوفناک طاقتیں آپ کے خلاف اکٹھی ہو گئی ہیں لیکن آپ نے ان کو یہی جواب دیا اور ہمیشہ یہ جواب دیا کہ تو حید کی راہ میں میں ہر قربانی کے لئے تیار ہوں یہی میری زندگی کا مقصد ہے۔یہی میرے پیغام کی جان ہے۔یہی میرے مذہب کی روح ہے اس لئے ہر دوسری چیز سے تم مجھے الگ کر سکتے ہومگر تو حید اور توحید کا پیغام پہنچانے سے الگ نہیں کر سکتے۔آپ نے فرمایا کہ تم کیا کہتے ہو۔خدا کی قسم ! اگر سورج کو میرے دائیں ہاتھ پر لا کر رکھ دو اور چاند کو میرے بائیں ہاتھ پر لا کر رکھ دو تب بھی میں ان کو رد کر دوں گا اور تو حید کا دامن کبھی نہیں چھوڑوں گا۔پس مجھے کس بات سے ڈراتے ہیں۔امریکہ کی طاقت ہو یا یہود کی طاقت ہو یا انگریز کی