خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 182 of 376

خلیج کا بحران — Page 182

۱۸۲ ۲۵ / جنوری ۱۹۹۱ء طاقت ہو یا تمام دنیا کی اجتماعی طاقتیں ہوں اگر تو حید کی آواز بلند کرتے ہوئے پارہ پارہ بھی ہو جاؤں تو خدا کی قسم میرے جسم کا ذرہ ذرہ یہ اعلان کرے گا کہ فزت برب الكعبه۔فزت برب الكعبه میں خدائے کعبہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں کامیاب ہو گیا اور یہی وہ آواز ہے جو آج تمام دنیا کے احمدیوں کے دلوں سے اور ان کے جسموں کے ذرے ذرے سے اٹھنی چاہئے۔تقدیر کا فیصلہ کیا پروگرام ہیں؟ اور کن طاقتوں پر یہ بھروسہ کئے ہوئے ہیں۔Desert Storm کی باتیں کرتے ہیں یعنی صحراؤں کا ایک طوفان ہے جو دشمن کو ہلاک اور ملیا میٹ کر دے گا۔یہ نہیں جانتے کہ طوفانوں کی باگیں بھی خدا کے ہاتھ میں ہوتی ہیں۔میں نہیں جانتا کہ خدا کی تقدیر کیا فیصلہ کرے گی مگر یہ ضرور جانتا ہوں کہ خدا کی تقدیر جو بھی فیصلہ کرے گی وہ بالآخر متکبروں کو ہلاک کرنے کا موجب بنے گا آج نہیں تو کل یہ تکبر ملیامیٹ کئے جائیں گے کیونکہ وہ بادشاہت جو آسمان پر ہے اسی خدا کی بادشاہت زمین پر ضرور قائم ہو کر رہے گی۔پس آج نہیں تو کل کل نہیں تو پرسوں آپ دیکھیں گے کہ یہ تکبر دنیا سے مٹا دیا جائے گا اور طوفان ان پر الٹائے جائیں گے اور ایسے ایسے خوفناک Storms خدا کی تقدیر ان پر چلائے گی کہ جن کے مقابل پر ان کی تمام اجتماعی طاقتیں بھی نا کام اور پارہ پارہ ہو جائیں گی یہ نظام کہنہ مٹایا جائے گا۔آپ یا درکھیں اور اس بات پر قائم رہیں اور کبھی محونہ ہونے دیں۔یہ اقوام قدیم جن کو آج اقوام متحدہ کہا جاتا ہے ان کے اطوار زندہ رہنے کے نہیں ہیں۔یہ قو میں یادگار بن جائیں گی اور عبرتناک یادگار بن جائیں گی اور ان کے کھنڈرات سے ، آپ ہیں۔اے تو حید کے پرستارو! وہ آپ ہیں جونئی عمارتیں تعمیر کریں گے نئی اقوام متحدہ کی عظیم الشان فلک بوس عمارتیں تعمیر کرنے والے تم ہو۔اے مسیح محمدی کے غلامو! جن کے سپرد یہ کام کیا گیا ہے تم دیکھو گے۔آج نہیں تو کل دیکھو گے، اگر تم نہیں دیکھو گے تو تمہاری نسلیں دیکھیں گی۔اگر کل تمہاری نسلیں نہیں دیکھیں گی تو پرسوں ان کی نسلیں دیکھیں گی۔مگر یہ خدا کے منہ کی باتیں ہیں اور اس کی تقدیر کی تحریریں