خلیج کا بحران — Page 174
۱۷۴ ۲۵ جنوری ۱۹۹۱ء ملک موجود تھے اور اس میں طوعی طور پر شامل ہوئے۔نہ کوئی دنیا کا ایسا چارٹر تھا جسے سب دنیا نے قبول کرلیا ہو کہ United Nations میں کوئی شامل ہو یا نہ ہو اس کا اثر اس پر پڑے گا اور نہ یہ کسی نے قبول کیا کہ یونائیٹڈ نیشنز کو ہم تمام دنیا کی برادری کے طور پر اجتماعی طور پر یہ حق دیتے ہیں کہ جب چاہے کسی ملک کو پیدا کردے ، جب چاہے کسی ملک کو مٹادے۔تو جو حق ہی United Nations کونہیں تھا، اس نا حق کو استعمال کرتے ہوئے یعنی حق اگر نہیں تھا تو جو بھی تھا نا حق تھا، انہوں نے ایک ملک کو پیدا کیا اس لئے اس ملک کے پیدا ہونے کا کوئی جواز نہیں اور اس میں سب سے بڑا بھیا نک اور جابرانہ کردار امریکہ نے ادا کیا ہے۔یہ وہ یاد ہے جس کو دنیا کا مسلمان بھلا ہی نہیں سکتا۔اگر چہ عربوں نے اسے مدتوں تک ایک عرب مسئلہ قرار دیئے رکھا اور باقی مسلمانوں کو اس میں شامل نہیں کیا لیکن باقی مسلمان از خود اس میں شامل رہے ہیں کیونکہ ان کے دل میں یہ بات ہمیشہ سے جاگزیں رہی ہے ، گہرے طور پر ان کے دل پر نقش ہے کہ دراصل یہ عرب دشمنی نہیں تھی بلکہ اسلام دشمنی تھی۔اس کے بار بار مختلف اظہار ہوئے۔مثلاً اسرائیل نے بعض دفعہ فلسطینیوں پر ایسے بھیانک مظالم کئے ہیں کہ ان کے تصور سے بھی انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔دل خون کے آنسو روتا ہے۔عورتوں ، بچوں ،مردوں بوڑھوں کو اس طرح تہ تیغ کیا ہے کہ ایک کیمپ میں ایک بھی زندہ روح نہیں چھوڑی۔دودھ پیتے بچے کو بھی ذبح کیا گیا لیکن نہ تمام دنیا کی قوموں کے کانوں پر کوئی جوں رینگی نہ امریکہ کی غیرت بھڑ کی۔بلکہ جب بھی United Nations میں اس کے خلاف کوئی سخت ریزولیوشن پاس کرنے کی کوشش کی گئی تو ہمیشہ امریکہ اس میں مزاحم ہوا اور یہ ایک لمبی تاریخ ہے۔اب یہاں یہ بھی سوال اٹھتا ہے کہ وہ United Nations یعنی اقوام متحدہ اس نام کی مستحق بھی ہے کہ نہیں جس میں صرف پانچ قوموں کو دنیا کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کا حق ہو یعنی وہ مستقل ممبر جن کو ویٹو کرنے کا حق ہے اور اگر سارے عالم کی رائے بھی متفق ہو جائے تو اس ایک ملک کو یہ حق ہو کہ اس رائے کو رد کر دے تو عملاً وہ ایک ملک اس وقت دنیا بن جائے گا اور عملاً موجودہ فیصلے کے پیچھے یہی بات کارفرما ہے۔جب صدر بش تحدی کے ساتھ یہ اعلان کرتے ہیں کہ عراق کی کیا مجال ہے کہ