خلیج کا بحران — Page 175
۱۷۵ ۲۵ جنوری ۱۹۹۱ء تمام دنیا کی رائے سے ٹکر لے۔تو امر واقعہ یہ ہے، ہر آدمی سمجھتا ہے کہ دنیا کی رائے سے مراد امریکہ کی رائے یا صدر بش کی رائے ہے اور اس تحدی میں ایسا تکبر پایا جاتا ہے کہ اس سے طبیعتوں میں منافرت پیدا ہوتی ہے اور جب ان کے یہود کے ساتھ اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر مسلمان نظر ڈالتے ہیں تو وہ سوائے اس کے کوئی اور نتیجہ نکال ہی نہیں سکتے کہ عراق نے غلطی کی یا نہیں کی۔عراق کے خلاف جو انتقامی کارروائی کی جارہی ہے یہ صرف اسرائیل کی خاطر ہے، یہ وہ ان کہی باتیں ہیں۔یہ تجزیے کے بغیر دل میں جمے ہوئے نقوش ہیں جن کے نتیجے میں مسلمان عوام یہ سمجھتے ہیں کہ درحقیقت یہ اسلام کی دشمنی کے نتیجے میں سب کچھ ہورہا ہے۔اسرائیل کو یہ حق ہوتا ہے کہ وہ عراق میں جہاز بھجوا کر ان کے نیوکلیئر پلانٹ یعنی وہ کارخانہ جو ایٹم بم کی خاطر بنایا جا رہا تھا اور عام پر امن مقاصد کے لئے نہیں تھا۔کس United Nations نے یہ اختیار اسرائیل کو دیا تھا کہ یہ فیصلہ بھی کرے اور پھر اس کو مٹانے کا اقدام بھی خود کرے۔اس وقت تو دنیا میں کسی نے یہ اعلان نہیں کیا کہ عراق کو یہ حق حاصل ہے کہ جب چاہے اسرائیل کے خلاف انتقامی کارروائی کرے۔یہ فیصلہ کرنا عراق کا کام ہے کہ آج کرے یا کل کرے یا پرسوں کرے مگر اس انتہائی کھلی کھلی جابرانہ بر بریت کے بعد اقوام متحدہ عراق کے اس حق کو تسلیم کرتی ہے۔اگر کسی نے یہ آواز سنی ہو کم سے کم میرے کانوں نے نہیں سنی ، اگر کسی نے ایسی خبر پڑھی ہو تو کم سے کم میری آنکھوں نے نہیں پڑھی اور کسی مسلمان نے نہیں پڑھی۔حقائق پر مبنی تاثر پس عالم اسلام کا یہ تصور کہ موجودہ دشمنی بھی اسلام کی گہری نفرتوں پر مبنی ہے ، حقائق پر مبنی تصور ہے، یہ کھلی کھلی دشمنیاں اور کھلی کھلی نا انصافیاں دنیا کو معلوم ہیں ، ان کی نظر میں آتی ہیں اور بھول جاتے ہیں لیکن تاثر قائم رہ جاتا ہے اور وہ تاثر سچا ہوتا ہے۔پھر عجیب بات ہے کہ جب عراق اسرائیل پر حملہ کرتا ہے اور راکٹس برساتا ہے اور ان کی شہری آبادیوں میں سے کچھ حصہ منہدم ہوتا ہے تو ساری