خلیج کا بحران — Page 173
۱۷۳ ۲۵ جنوری ۱۹۹۱ء مذہبی بنا پر ہے اور اسلام کا نام خواہ یہ لیں یا نہ لیں لیکن مسلمان قوموں کی ترقی یہ دیکھ نہیں سکتے اور مسلمان قوموں کے آگے بڑھنے کے خوف سے یہ ہمیشہ ایسے اقدام کرتے ہیں کہ جس سے ان کی طاقت پارہ پارہ ہو جائے۔یہ گہرا تا ثر ہے جو مسلمان عوام الناس کے دل میں موجود ہے خواہ انہوں نے کبھی تاریخ پڑھی ہو یا نہ پڑھی ہو۔تاریخ کے بعض تأثرات انسانی سوچ اور انسانی جذبات میں اس طرح شامل ہو جاتے ہیں جیسے کسی پانی کی رو میں کوئی چیز ملا دی گئی ہو۔وہ ہاتھ نہ دیکھا ہوکسی نے جس نے وہ چیز ملائی ہے لیکن پانی کے چکھنے سے اس چیز کا اثر معلوم کیا جاسکتا ہے۔پس عامتہ المسلمین دل میں یہ یقین رکھتے ہیں اور اس لمبے تاریخی تجربے کے نتیجے میں یہ یقین ان کے دل میں جاگزیں ہو چکا ہے کہ یہ تو میں ہر مشکل کے وقت ہماری مخالفت کریں گی اور ایسے اقدامات کریں گی جس سے عالم اسلام کو نقصان پہنچے۔اس تاثر کو حالیہ اختلاف کے دوران بھی اور اس سے پہلے بھی سب سے زیادہ تقویت امریکہ کے سلوک نے دی ہے یعنی اس تاثر کو تقویت دینے کا بڑا ذمہ دارامریکہ ہے۔مثلاً اسرائیل کا مسلمان علاقے میں قیام۔امریکہ کی طاقت استعمال ہوئی ہے اس لئے وہ اس کا بڑا ذمہ دار ہے لیکن یہ شوشہ برطانیہ نے چھوڑا تھا اور برطانیہ کے دماغ کی پیداوار ہے۔جب بھی لڑائیاں ہوتی ہیں اس وقت کچھ مخفی معاہدے کر لئے جاتے ہیں بعض لوگوں کے ساتھ اور یہود سے اس زمانے میں برطانیہ نے یہ معاہدہ کیا تھا کہ ہم تمہیں عربوں کے دل میں جگہ عطا کریں گے جہاں تمہارا ایک آزاد ملک قائم کیا جائے گا اور داؤد کی حکومت کے نام پر پھر تم وہاں بیٹھ کر تمام عرب پر بھی اثر انداز ہو گے اور تمام دنیا پر بھی اثر انداز ہو گے۔ان الفاظ میں یہ معاہدہ نہیں ہوا ہوگا یقیناً نہیں ہوا مگر اس معاہدے کے وقت یہود کو یہی پیغام مل رہا تھا کیونکہ یہ ان کی خواب تھی جو پوری ہورہی ی۔United Nations کے نام پر اسے نافذ کیا گیا اور سب سے بڑا کردار اس میں امریکہ نے ادا کیا۔ایک چیز جو مجھے آج تک تعجب میں ڈالتی ہے وہ یہ ہے کہ، کیوں اس بنیادی سوال کو نہیں اٹھایا گیا کہ کیاUnited Nations کو یہ حق حاصل ہے کہ دنیا میں ایک نیا ملک پیدا کرے۔ملکوں کا قیام تو ایک تاریخی ورثہ ہے جو از خود چلا آیا ہے۔United Nations کا اختیار تو ان ملکوں تک تھا جو