خلیج کا بحران — Page 163
۱۶۳ ۱۸؍ جنوری ۱۹۹۱ء کرنے کے بعد اپنے ہمسایہ ملکوں میں غربت کے اتھاہ گڑھوں کی طرف دیکھنا اور دل رحم کے جذبے سے مغلوب نہ ہو جانا یہ کوئی انسانیت نہیں ہے۔اگر یہ مسلمان ممالک دعا کی طرف متوجہ رہتے اور بنی نوع انسان کی ہمدردی کی طرف متوجہ رہتے تو میں یقین رکھتا ہوں کہ آج اس بڑے خوفناک ابتلاء میں مبتلا نہ کئے جاتے۔پس ہم اپنی غربت کے باوجود ہر نیکی کے میدان میں ان کے لئے نمونے دکھاتے ہیں۔اس میدان میں بھی ہم نمونے دکھائیں گے۔پس دعائیں کریں اور ان کو دعاؤں کی تلقین کریں۔صدقے دیں اور ان کو صدقوں کی تلقین کریں۔صبر کریں اور ان کو صبر کی تلقین کریں کیونکہ قرآن کریم کی سورتوں سے پتا چلتا ہے کہ آخری زمانے میں وہی لوگ فتح یاب ہوں گے کہ جن کے متعلق فرمایا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ (البلد : ۱۸) کہ وہ صبر کی تلقین صبر کے ساتھ کیا کرتے تھے یا کیا کریں گے اور رحمت کی تلقین رحمت کے ساتھ کرتے تھے۔پس میں نے فیصلہ کیا ہے کہ دس ہزار پاؤنڈ جو ایک بہت معمولی قطرہ ہے جماعت کی طرف سے افریقہ کے بھوک سے فاقہ کش ممالک کیلئے پیش کروں اور حسب توفیق ذاتی طور پر پیش کروں گا اور ساری جماعت بحیثیت جماعت بھی کچھ نہ کچھ صدقہ نکالے۔جماعت کے ایسے فنڈ ہوتے ہیں جن میں صدقات یا ز کوۃ وغیرہ کی رقمیں ہوتی ہیں کچھ تو لازماً مقامی غریبوں پر خرچ کرنی پڑتی ہیں، کچھ ایسی بھی ہوتی ہیں جو اس کے علاوہ بچ جاتی ہیں، وہ عفو“ کہلا سکتی ہیں۔تو قرآن کریم فرماتا ہے: وَيَسْتَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ (البقره: ۲۲۰) اس عفو کا ایک یہ بھی معنی ہے کہ جو کچھ تمہارے پاس ان مدات میں سے بچ سکتا ہے وہ بچاؤ اور غرباء کی خدمت پر خرچ کرو یعنی اور علاقوں والے غرباء کی خدمت پر بھی خرچ کرو اور اسی طرح ذاتی طور پر بھی افراد جماعت خرچ کریں اگر چہ جماعت کی ساری دولت خدا ہی کی دولت ہے اور خدا ہی کی خاطر نیک کام پر خرچ ہوتی ہے لیکن ایک یہ بھی میدان خدا ہی کی خاطر خرچ کرنے کا میدان ہے۔پس میں کوئی معین تحریک نہیں کرتا مگر میں یہ تحریک کرتا ہوں کہ خالصۂ اس نیت کے ساتھ کہ ہمارے ان صدقات کو اللہ تعالیٰ امن عالم کے حق میں قبول فرمائے مسلمانوں کے مصائب دور کرنے کیلئے قبول