خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 162 of 376

خلیج کا بحران — Page 162

۱۶۲ ۱۸/جنوری ۱۹۹۱ء اہل مغرب نے کی ہے۔ان کے ہاں ایسے پروگرام میں نے دیکھے ہیں جن کے تحت ان بھوکوں، ننگوں ، ان یتیموں ، ان فاقہ کشوں، ان بیماری میں مبتلا سکتے پنجروں کی تصویر میں دکھائی جاتی ہیں تا کہ بنی نوع انسان کا رحم حرکت میں آئے اور ان کی خاطر لوگ کچھ قربانیاں پیش کریں لیکن تیل کی دولت سے مالا مال وہ ممالک جن کے پاس تیل کے نتیجے میں دولتوں کے پہاڑا کٹھے ہو چکے ہیں ، وہ محمد مصطفی اے کی طرف منسوب ہونے کے باوجود آپ کے پیغام کی روح کو بھلا بیٹھے ہیں اور ان کو کبھی خیال نہیں آتا کہ ہمارے ہمسائے میں بعض غریب افریقین ملک کس طرح فاقہ کشی کا شکار ہیں۔سعودی عرب ہے یا عراق ہے یا دوسری مسلمان طاقتیں ہیں، کویت ہو یا بحرین ہو یا شیخڈم کی اور ریاستیں ہوں خدا تعالیٰ نے ایک لمبے عرصہ تک ان کو بڑی بڑی دولتوں کا مالک بنائے رکھا ہے اور تو اور سوڈان ان کا ہمسایہ ملک ہے۔وہ مسلمان بھی ہیں لیکن فاقوں کا شکار ہور ہے ہیں لیکن مالدار عرب ملکوں میں کوئی حرکت پیدا نہیں ہو رہی۔کسی کو خیال نہیں آیا کہ محمد مصطفی اللہ کے دین کی امتیازی شان کیا ہے۔جب آپ کی سیرت کی باتیں کی جائیں تو خدا کی محبت کے بعد سب سے زیادہ ذکر بنی نوع انسان کی محبت اور غریب کی محبت کا آتا ہے جو سیرت محمد مصطفی ﷺ کے روشن ہیولے کی طرح ابھرتی ہے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کا نام انسان کے ذہن میں آئے اور غریبوں کے ساتھ آپ کی ہمدردی اور ان کے ساتھ تمام عمر شفقت اور رحمت کا سلوک اچانک انسان کی نظر کو خیرہ نہ کر دے۔محمد مصطفی ﷺ کی روشنی میں غریب کی ہمدردی کی روشنی شامل ہے۔ایک موقع پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم نے مجھے تلاش کرنا ہوتو غریبوں میں تلاش کرنا۔قیامت کے دن میں درویشوں میں ہوں گا ، غریبوں میں ہوں گا اور فرمایا ان کا خیال کرنا کیونکہ تمہاری رونقیں اور تمہاری دولتیں غریبوں کی وجہ سے ہیں۔ان ہی کی محنتیں ہیں جو رنگ لاتی ہیں اور پھر وہ تمہاری دولتوں میں تبدیل ہوتی ہیں۔کم سے کم اتنا تو کرو کہ ان سے شفقت اور محبت اور ہمدردی کا سلوک کرو۔پس حضرت محمدم بلاشبہ تمام کائنات میں سب سے زیادہ غریبوں کے ہمدرد تھے اور آپ کے نام کے صدقے خدا سے دوستیں پانے کے بعد اور دولتوں کے پہاڑ حاصل