خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 164 of 376

خلیج کا بحران — Page 164

۱۶۴ ۱۸؍ جنوری ۱۹۹۱ء فرمائے جتنا ممکن ہو صدقات دیں ہماری دعائیں بھی ان دو باتوں کیلئے وقف رہیں اور ہمارے صدقے بھی جس حد تک ہمیں توفیق ہے ان نیک کاموں پر خرچ ہوں اور یہ جو سارے صدقات ہوں گے یہ خالصہ افریقہ کے فاقہ زدہ ممالک پر خرچ کئے جائیں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے ان بھائیوں کی بھی آنکھیں کھولے جن کو قرآن نے کھلی کھلی نیکی کی تعلیم دی تھی لیکن اس سے یہ آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں۔آج کا یہ جو خطبہ تھا یا ابھی جاری ہے۔یہ جاپان میں بھی سنا جارہا ہے۔مغربی جرمنی میں بھی سنا جا رہا ہے۔ماریشس میں بھی سنا جا رہا ہے ان کے علاوہ یہ خطبہ نیو یارک (امریکہ ) ڈنمارک اور بریڈفورڈ میں بھی سنا جارہا ہے تو یہ جو مواصلات کے نئے ذرائع ہیں حیرت انگیز ترقی کر چکے ہیں لیکن یہ یاد رکھیں کہ جو خطبے وہاں سنتے ہیں وہ اپنے جمعہ کا اس کو حصہ نہ بنائیں۔میں اس بات کو جائز نہیں سمجھتا کہ خطبہ کہیں اور پڑھا جارہا ہو اور باقی لوگ با قاعدہ اس کو جمعہ کے حصے کے طور پر فریضے کی ادائیگی میں شامل کر لیں اپنا جمعہ آپ کو الگ پڑھنا ہو گا اور پھر جاپان میں تو اس وقت وقت ہی اور ہے۔وہاں رات کے ساڑھے گیارہ بج چکے ہیں اس لئے وہاں تو جمعہ کا ویسے ہی سوال نہیں ہے۔بہر حال میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ ان ممالک میں بھی یہ سنا جا رہا ہے۔یہ سارے بھی اس تحریک میں براہ راست شامل ہوسکیں گے۔ان کو بھی دعاؤں میں یا درکھیں۔ان میں نیکی کی بہت طلب پائی جاتی ہے کوشش کرتے ہیں کہ ہر نیکی کے مقام میں آگے قدم بڑھا ئیں اللہ تعالیٰ اور بھی ان کو توفیق عطا فرمائے۔آمین