خلیج کا بحران — Page 80
۹ نومبر ۱۹۹۰ء گئے جن کی اسلام اجازت نہیں دیتا لیکن چونکہ انہوں نے غیر مسلم بنا کر ایسا کیا اس لئے غیر مسلم دنیا کے ہاتھ یہ بہانہ تو بہر حال آ گیا کہ پاکستان کا ملاں اسلام کی سند کو استعمال کرتے ہوئے جن کو غیر مسلم سمجھتا ہے ان سے یہ سلوک کرتا ہے تو ہم غیر مسلموں کو (اس میں وہ بہر حال ہند و شامل کرتے ہیں ) کہ ہم ہندوؤں کو پھر کیوں یہ حق نہیں ہے کہ ہم مسلمانوں سے جو چاہیں سلوک کریں۔پس جب پاکستان میں مسجد میں منہدم کی جارہی تھیں اور چاروں صوبے اس بات کے گواہ ہیں کہ چاروں صوبوں میں خدائے واحد و یگانہ کی عبادتگاہوں کو جن میں خالص اللہ کی محبت اور اس کے عشق میں عبادت کرنے والے پانچ وقت اکٹھے ہوا کرتے تھے منہدم کر دیا گیا ، جب احمدیوں کی مساجد کو ویران کرنے کی کوشش کی گئی ، جب وہاں سے کلمہ توحید کا بلند ہونا ان کے جذبات پر ظلم کرنے کے مترادف قرار دیا گیا اس وقت ان کو کیوں خدا کا خوف نہیں آیا اور کیوں اس بات کو نہیں سوچا کہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر پھر ضرور ظالموں کو پکڑتی ہے اور ان کو اپنے کردار کی تصویر میں دکھاتی ہے۔پس جو بد بختی ہندوستان میں ہو رہی ہے اور مسلمانوں پر جو عظیم مظالم توڑے جارہے ہیں اس کی داغ بیل پاکستان کے مُلاں نے ڈالی ہے۔یہ وہ مجرم ہے جو خدا کے حضور جوابدہ ہو گا۔اس دنیا میں بھی آپ دیکھیں گے کہ ایک دن آئے گا جب یہ ملاں اپنے ظلم و تعدی کی وجہ سے پکڑا جائے گا اور آخرت میں تو بہر حال ان کا رسوا اور ذلیل ہونا مقدر ہو چکا ہے سوائے اس کے کہ یہ تو بہ کریں۔پس پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے اثرات غیر دنیا پر پڑتے ہیں، غیر دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے اثرات دوسری دنیا کے حصوں پر پڑتے ہیں۔غیر مسلم دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اس کے اثرات اسلام کی دنیا پر پڑتے ہیں۔غرضیکہ اس طرح یہ دنیا ایک ایسی دنیا نہیں ہے جو مختلف جزیروں کی صورت میں ایک دوسرے سے الگ رہ رہی ہو۔ایک جگہ ہونے والے واقعات کا اثر موجوں کی طرح دوسرے حصے کے اوپر ضرور اثر انداز ہوتا ہے اور ظلم ہمیشہ ظلم کے بچے دیتا ہے۔پس اگر ہم نے دنیا میں انصاف کو قائم کرنا ہے اور ہم ہی نے دنیا میں انصاف کو قائم کرنا ہے تو ہمیں ظلم کے خلاف جہاد کرنا ہوگا۔ہمیں انصاف اور امن کے حق میں جہاد کرنا ہوگا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا ہے: