خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 81 of 376

خلیج کا بحران — Page 81

" ΔΙ ۹ نومبر ۱۹۹۰ء أَنْصُرُ أَخَاكَ ظَالِمًا اَوْمَظْلُومًا (بخارى كتاب المظالم والغضب حدیث نمبر : ۲۲۶۳) جب پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ ! مظلوم بھائی کی تو ہم حمایت کریں، ظالم بھائی کی کیسے حمایت کریں؟ آپ نے فرمایا! ظلم سے ان کے ہاتھ روک کر ان کی حمایت کریں۔“ پس جہاں جہاں بھی مسلمان ممالک نے یہ غلط رد عمل دکھایا ہے اور اسلام کے نام پر نہایت ہی کر یہ حرکات کی ہیں اور ہندوؤں کے مندروں کو لوٹا یا منہدم کیا ہے ان کے ظلم سے ہاتھ روکنا ہمارا کام ہے اور یہی ان کی مدد ہے اور جہاں جہاں مظلوم مسلمان غیروں کے ظلم کی چکی میں پیسے جارہے ہیں وہاں جس حد تک بھی ممکن ہے ان کی مدد کرنا یہ بھی عین اسلام ہے اور اسی کا حکم حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ہمیں فرمایا: اس لئے احمدیوں کو ہر دو محاذ پر جہاد کے لئے تیار ہونا چاہیئے۔وی پی سنگھ کی حق پرستی سچا رد عمل تو یہ تھا کہ ایسے موقع پر سب سے پہلے تو تمام غیر مذاہب کے عبادت خانوں کی حفاظت کے لئے تمام مسلمان ممالک تیار ہو جاتے اور ہندوستان کے سابق وزیر اعظم وی۔پی۔سنگھ سے نصیحت پکڑتے۔وہ ایک عظیم راہنما ہے اگر چہ وہ اب طاقت پر فائز نہیں لیکن انصاف کا تقاضا ہے کہ ان کی حق پرستی کی تعریف کی جائے۔ہندوستان کی بہت ہی بڑی بدنصیبی ہے، ایک تاریخی بدنصیبی ہے کہ اتنے عظیم الشان را ہنما کی راہنمائی سے محروم ہو گیا جس کے پیچھے چل کر ہندوستان کی کھوئی ہوئی ساری عظمتیں مل سکتی تھیں کیونکہ وہ راہنما جو حق پرست ہو اور حق کی خاطر اپنے مفادات کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو، آج کی دنیا میں قوم کو اس سے بہتر کوئی اور لیڈر میسر نہیں آ سکتا۔دوباتیں وی۔پی۔سنگھ صاحب نے ایسی کیں جن کی وجہ سے میرے دل میں ان کی بہت ہی عزت قائم ہوئی اور محبت قائم ہوئی اور میں دعا کرتا رہا کہ اللہ کرے کہ دنیا کے دیگر راہنما بھی اس طرح حق پرست بن جائیں۔سب سے پہلے تو لاکھوں اور کروڑوں مظلوم اچھوتوں کے لئے یہ تن تنہا کھڑے ہو گئے اور اپنی پارٹی کے ان لیڈروں کے اختلاف کو بھی چیلنج کیا جو ان کے اقتدار کے لئے خطرہ بن سکتے تھے اور