خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 72 of 376

خلیج کا بحران — Page 72

۷۲ ۹ نومبر ۱۹۹۰ء نقشوں کو تبدیل کرو۔مگر وہی بڑی حکومتیں جو عراق کو تباہ کرنے پر آج تکی بیٹھی ہیں وہ متحد ہو گئیں اس بات پر کہ نہیں تاریخ کے نتیجے میں جغرافیے تبدیل کئے جائیں گے اور جغرافیہ تو تبدیل ہوتے رہنے والی چیزیں ہیں۔پھر آپ کشمیر کو دیکھ لیجئے ، پھر آپ جونا گڑھ کو دیکھ لیجئے۔پھر آپ حیدر آباد دکن کو دیکھ لیجئے غرضیکہ بہت سے ایسے ممالک ہیں جو آج بھی اس بات کے گواہ ہیں کہ اس دور میں جس میں سے ہم گزر رہے ہیں تاریخ کے حوالے سے یا بغیر کسی حوالے کے جغرافیے تبدیل کئے گئے اور تمام دنیا کی سیاست کو کوئی خطرہ در پیش نہیں ہوا اور سیاسی تقسیمیں دنیا میں جتنی بھی ہیں انہوں نے ان تبدیلیوں کے نتیجے میں کوئی واویلا نہیں کیا اور کوئی کوشش نہیں کی گئی کہ سب دنیا مل کر اس تبدیل ہوتے ہوئے جغرافیے کو پھر پہلی شکل پر بحال کر دے۔افریقہ کی انتہائی افسوسناک بندر بانٹ صرف یہی نہیں بلکہ ہم جب افریقہ کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو اور بھی زیادہ حیرت انگیز اور بھیانک شکل دکھائی دیتی ہے۔ایک رسالہ The Plain Truth یہاں سے شائع ہوتا ہے، اس کے ایک صفحے میں سے چند اقتباسات میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں تا کہ آپ کو علم ہو کہ دنیا کا جغرافیہ تبدیل کرنے کا حق کن کو ہے اور کن کو نہیں ہے۔یہ لکھتا ہے: In November 1884, Representatives of 13 European Nations and The United States met in Berlin۔Having portioned out Africa among themselves, they agreed to respect each other's "spheres of influence"۔Soon only Ethiopia and Liberia remained independent nations۔(The Plain Truth, October 1990)