خلیج کا بحران — Page 71
اء ۹ نومبر ۱۹۹۰ء اس مسلمان ملک کے نزدیک کبھی اس کا تھا اور انگریزوں نے اس خطے کو کاٹ کر وہاں ایک الگ حکومت قائم کر دی تھی۔یہ عراق کا کیس ہے۔اس کے جواب میں یہ کہا جارہا ہے کہ اگر آج ہم کسی خطے پر کسی تاریخی دعوئی کے نتیجے میں کسی ملک کو قبضہ کرنے دیں تو اس سے عالمی امن کو شدید خطرہ لاحق ہوگا اور ہم کسی قیمت پر بھی اس قسم کی ظالمانہ حرکت کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دے سکتے۔چنانچہ مغربی راہنماؤں کی طرف سے بار بار اس خیال کو بھی رڈ کیا جارہا ہے کہ تیل میں ہمیں دلچسپی ہے۔کہتے ہیں تیل میں ہمیں کوئی دلچسپی نہیں دلچسپی ہے تو امن عالم میں دلچسپی ہے۔ایک خطے کو جوز مین کا ایک ٹکڑا ہے اس کو کوئی ملک اپنے قبضے میں اس لئے کر لے کہ تاریخی لحاظ سے کچھ اور تھا یہ بالکل ایک لغو بات ہے اور ہم ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔دلیل پیش کرنے والوں کی سابقہ دھاندلیاں آئیے اب ہم اس دور کی تاریخ پر ایک سرسری نظر ڈال کر دیکھیں کہ کیا ہوتا رہا ہے اور یہ جو دلیل پیش کی جارہی ہے اس کی ماہیت کیا ہے۔جہاں تک عالم اسلام سے تعلق رکھنے والی بعض سرزمینوں کا تعلق ہے ان میں سب سے پہلے فلسطین کی سرزمین ہے جس کے ایک بڑے حصے پر اس وقت اسرائیل کی حکومت قائم ہے اور اس کے علاوہ بھی وہ حکومت سرکتی ہوئی اردن دریا کے مغربی ساحل تک پہنچ چکی ہے۔یہ حقیقت میں ایک تاریخی قضیہ تھا۔ہزاروں سال پہلے یہود کا اس سرزمین پر قبضہ تھا اور یہاں اُنہوں نے معبد تعمیر کئے اور اس زمین کو یہود کے نزدیک غیر معمولی اہمیت تھی۔مغربی طاقتوں نے اس قدیم تاریخ کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس زمانے کا جغرافیہ تبدیل کیا اور اس قدر غیر معمولی ہٹ دھرمی اور جسارت کی کہ سارا عالم اسلام شور مچاتا رہ گیا اور عالم اسلام کے سوا دنیا کی بہت سی دوسری طاقتیں بھی عالم اسلام کی ہمنوائی میں اُٹھ کھڑی ہوئیں کہ تم تین چار ہزار سال پرانی تاریخ کوشولتے ہوئے راکھ کے انبار میں سے ایک چنگاری نکال رہے ہو اور اسے ہوا دے کر آگ بنانے لگے ہو۔تمہارا کیا حق ہے کہ آج اس پرانے دعوے کو قبول کرتے ہوئے اس حال کی دنیا کے