خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 349 of 376

خلیج کا بحران — Page 349

۳۴۹ ۸ مارچ ۱۹۹۱ء مَّفْعُولًا اور خدا کا وہ وعدہ پورا ہونا ہی تھا اس وعدے کو کوئی ٹال نہیں سکتا تھا کہ پہلی بغاوت تم کرو اور تمہیں سزا ملے اور وہ سزا دے دی گئی۔ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَيْهِمْ وَامْدَدْنُكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَجَعَلْنَكُمْ اَكْثَرَ نَفِيرًا (بنی اسرائیل ۷۰) پھر ہم نے تمہیں دوبارہ ان پر ایک طاقت عطا کر دی ، غلبہ عطا فرما دیا اور ہم نے تمہاری مدد کی اسی ذریعے سے، اموال کے ذریعے سے بھی اور اولاد کے ذریعے سے بھی اور پھر ہم نے تمہیں بڑھاتے ہوئے ایک بڑی طاقت بنادیا۔اِنْ اَحْسَنتُمْ أَحْسَنُتُم لِأَنْفُسِكُمْ وَإِنْ أَسَأْتُمْ فَلَهَا (بنی اسرائیل : ۸) لیکن اس شرط کے ساتھ کہ اگر تم اب حسن سلوک کرو گے اور پہلی بدیاں ترک کر دو گے تو دراصل اپنے سے ہی حسن سلوک کرنے والے ہو گے اور اگر تم نے پھر وہی بدی اختیار کی جو پہلے کر چکے تھے تو پھر وہ بدی بھی تمہارے خلاف ہی پڑے گی یعنی عملاً تم اپنے سے وہ بدی کرنے والے ہو گے۔فرمایا فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ (بنی اسرائیل (۸) پھر دوسری دفعہ وعدہ پورا کرنے کا وقت بھی آگیا جیسا کہ دو وعدے کئے گئے تھے۔لِيَسُوا وُجُوهَكُمْ کہ یہ تقدیر پوری ہو کہ تم پھر بدی کرو گے اور اس بدی کا مزا چکھو گے اور تمہارے چہرے رسوا اور کالے کر دیئے جائیں گے: وَلِيَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَلِيَتَبِرُوا مَا عَلَوْا تَثْبِيرًا (بنی اسرائیل : ۸) تا کہ وہ دوبارہ مسجد میں داخل ہوں جس طرح پہلے داخل ہوئے تھے اور اسے تباہ و برباد کر دیں۔( یہاں ہیکل سلیمانی مراد ہے) یہ دو وعدے تاریخ میں پورے ہو گئے ، ایک تیسرا بھی ہے، اس کا بھی قرآن کریم کی اسی سورۃ میں ذکر ملتا ہے چنانچہ ) اگلی آیت یعنی نویں آیت میں فرمایا: عسى رَبُّكُمْ اَنْ يَّرْحَمَكُمْ (بنی اسرائیل : ۹) کہ اس کے بعد پھر جب خدا چاہے گا اور اگر خدا نے چاہا بلکہ عسی کا مطلب ہے۔ہوسکتا ہے عین ممکن ہے کہ خدا یہ چاہے۔اَنْ يَّرْحَمَكُمْ کہ ایک دفعہ پھر تم پر رحم فرمائے لیکن یا درکھنا جب تم پر رحم کیا جائے گا تو اس بات کو نہ بھلانا وَ اِنْ عُدْتُمْ عُدْنَا اگر تم نے پھر ان سب بدیوں کا اعادہ کیا اور تکرار کی تو ہم بھی ضرور ان سزاؤں کا اعادہ کریں گے جن کے دو دفعہ تم ماضی میں مزے چکھ چکے ہو۔وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ