خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 348 of 376

خلیج کا بحران — Page 348

اسرائیل کے لئے خصوصی مشورہ ۳۴۸ ۸ مارچ ۱۹۹۱ء اب میں آخری بات آپ کے سامنے یہ رکھنا چاہتا ہوں کہ اسرائیل کو بھی آج مخاطب ہوکر میں ایک مشورہ دے رہا ہوں۔عام طور پر مسلمانوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اسرائیل کا قیام مغرب کی سازش کے نتیجے میں ، اسرائیل کی چالاکیوں کے نتیجے میں ہوا ہے یہ اپنی جگہ درست ہے لیکن اگر خدا کی تقدیر یہ نہ چاہتی تو ایسا کبھی نہیں ہو سکتا تھا۔اس تقدیر کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کس تقدیر نے آج اسرائیل کا مسئلہ کھڑا کیا ہے اور اسی تقدیر کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت ہے کہ اس مسئلے کا کیا حل ہے۔پس میں قرآن اور حدیث پر بنارکھتے ہوئے اس مسئلے کو آج آپ کے سامنے کھولنا چاہتا ہوں اور اسرائیل کو مشورہ دینا چاہتا ہوں کیونکہ آج امن عالم کا انحصار اسرائیل پر ہے اور اسرائیل کے فیصلوں پر ہے اور یہی ہمیں قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے۔قرآن کریم میں سورہ اسراء جسے بنی اسرائیل بھی کہا جاتا ہے، اس میں اس مسئلے پر چند آیات ہیں جو میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔آیت نمبر ۵ یعنی اگر بسم اللہ کو شمار کریں تو پانچ ورنہ چار فرماتی ہے۔وَقَضَيْنَا إِلى بَنِي إِسْرَاوِيْلَ فِي الْكِتَبِ لَتُفْسِدُنَّ فِي الْأَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْدُنَ عُلُوًّا كَبِيرًا (بنی اسرائیل :۵) کہ ہم نے بنی اسرائیل کے لئے مقدر کر دیا تھا کتاب میں یعنی غالباً زبور مراد ہے یا تقدیر کی کتاب ہو سکتی ہے۔بہر حال ہم نے کتاب میں اسرائیل کے ضمن میں یہ تقدیر بنادی تھی ، یہ فیصلہ کر دیا تھا کہ لَتُفْسِدُنَ فِي الْأَرْضِ مَرَّتَيْنِ کہ تم یقیناً دو دفعہ زمین میں فساد برپا کرو گے وَلَتَعْلُنَ عُلُوًّا كَبِيرًا اور بہت بڑی بغاوتیں کرو گے۔اگلی چھٹی آیت فرمائی ہے : فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ أَو لَهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادَ النَا أُولِي بَأْسٍ شَدِيدِ فَجَاسُوا خِللَ الذِيَارُ وَكَانَ وَعْدًا مَّفْعُولًا (بنی اسرائیل (۷) کہ جب پہلا وعدہ پورا ہونے کا وقت آیا تو ہم نے تم پر ایسے بندے مبعوث فرما دیے جو بہت شدید جنگ کرنے والے بندے تھے۔ہمارے بندے ایسے تھے جو نہایت سخت جنگجو تھے۔وہ تمہارے گھروں کے بیچ میں گھس گئے۔وَكَانَ وَعْدًا