خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 326 of 376

خلیج کا بحران — Page 326

۳۲۶ ۸ مارچ ۱۹۹۱ء چلائی اور تھوڑے تھوڑے حصوں میں اقتصادی تعاون کے مقاصد کو حاصل کرنے کے بعد رفتہ رفتہ سیاسی وحدت کی طرف قدم اٹھایا ہے۔Pan Arabism کی تحریک جس کا میں نے ذکر کیا ہے دراصل اس کا آغا ز صدر جمال ناصر سے بہت پہلے جمال الدین افغانی نے کیا تھا اور یہ انہیں کا فلسفہ ہے جس کو اپنا کر بعد میں یہ تحریکات آگے بڑھیں پس جمال الدین افغانی کا یہ تصور کہ عرب کو متحد ہو جانا چاہئے بلکہ عالم اسلام کو متحد ہو جانا چاہئے ، ایک ایسا تصور ہے جو اس شکل میں مسلمانوں کو قبول ہی نہیں ہو سکتا۔نہ قرآن کریم نے تمام مسلمانوں کے ایک حکومت کے اندر اکٹھے ہونے کا کہیں کوئی تصویر پیش کیا ہے۔اس شکل میں تو عرب وحدت بھی حاصل ہونا ناممکن ہے سوائے اس کے کہ مختلف قدموں اور مراحل میں حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔پس سب سے اہم قدم اقتصادی وحدت کا ہے جس میں مشترکہ لائحہ عمل ہوں مشترکہ منصو بے بنائے جائیں اور اس سارے خطے کو خصوصیت کے ساتھ خوراک میں خود کفیل بنانے کے منصوبے ہوں اور انڈسٹری میں یعنی صنعت و حرفت میں خود کفیل بنانے کے منصوبے ہوں تب ان ممالک کی آزادی کی کوئی ضمانت دی جاسکے گی۔تیسری دنیا کے لئے خطرہ اس ضمن میں ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اقتصادی آزادی کا تعلق صرف اس خطے سے نہیں ہے بلکہ تمام تیسری دنیا کی قوموں کے ساتھ ہے اور ان کے لئے ایک شدید خطرہ درپیش ہے جس کو ابھی سے پوری طرح سمجھنا چاہئے اور اس کے لئے انسدادی کاروائیاں کرنی نہایت ضروری ہیں۔Neo Imperialism یعنی جدید استعماریت کا ہے۔روس کے ساتھ صلح ہونے کے بعد وہ مشرقی دنیا جو اشترا کی نظریات کی حامل تھی وہ اپنے نظریات کو نج کر کے تیزی کے ساتھ پرانے زمانے کی طرف لوٹ رہی ہے اور اب نئے مقابلے