خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 325 of 376

خلیج کا بحران — Page 325

۳۲۵ ۸ مارچ ۱۹۹۱ء لیکن خیرات کے طور پر ان کی جھولی میں بھیک ڈالی جارہی ہے۔تو اس کے نتیجے میں فلسطین کے مسئلے کے حل ہونے کے جو باقی امکانات رہتے ہیں وہ بھی ہمیشہ کے لئے مٹ جائیں گے۔اس لئے اس مسئلے پر عربوں کو یہ موقف اختیار کرنا چاہئے کہ عربوں کو خدا تعالیٰ نے جو تیل کی دولت دی ہے وہ سب کی مشتر کہ دولت ہے اور ایسا فارمولہ طے کرنا چاہئے کہ اس مشترک دولت کی حفاظت بھی مشترک طور پر ہو اور اس کی تقسیم بھی منصفانہ ہو۔البتہ جن ملکوں میں یہ دولت دریافت ہوئی ہے ان کو پانچواں حصہ (جیسا کہ اسلامی قانون خزائن کے متعلق ہے ) یا فقہاء کے نزدیک اختلاف ہوں گے، کچھ نہ کچھ حصہ زائد دے دیا جائے۔مگر مشتر کہ دولت کے اصول کو منوانا ضروری ہے اور اس پر قائم رہنا ضروری ہے ، اس کے بعد ان کو جو کچھ ملے گا وہ عزت نفس قربان کر کے نہیں ملے گا بلکہ اپنا حق سمجھتے ہوئے ملے اور امر واقعہ یہی ہے کہ سارا عالم عرب ایک عالم تھا جسے مغربی طاقتوں نے توڑا ہے اور اپنے وعدے توڑتے ہوئے تو ڑا ہے ورنہ پہلی جنگ عظیم کے معا بعد واضح اور قطعی وعدہ انگریزی حکومت کی طرف سے تھا کہ ہم ایک متحد آزاد عرب کو پیچھے چھوڑ کر جائیں گے اور وہ متحد آزا د عرب کا وعدہ ان کے حق میں ابھی تک پورا نہیں ہوا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت سارے عرب کی دولت مشتر که دولت تسلیم کر لی گئی تھی اور اسی اصول کو پکڑ کر اسے مضبوطی سے تھام لینا چاہئے اور اس گفت و شنید کو ان خطوط پر آگے بڑھانا چاہئے۔اقتصادی دولت مشترکہ کی ضرورت ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اس تمام خطے کی ایک اقتصادی دولت مشتر کہ بنی چاہئے۔اس سے پہلے صدر ناصر نے جو ایک عرب کا تصور پیش کیا تھا وہ سیاسی وحدت کا تصور تھا۔ضروری نہیں ہوا کرتا کہ سیاسی وحدت کا تصور پہلے ہو اور اقتصادی اور دوسری وحدتوں کا تصور بعد میں آئے جب سیاسی وحدت کے تصور کو پہلے رکھا جاتا ہے تو باقی وحدتوں کو بعض دفعہ شدید نقصان پہنچتا ہے۔اس لئے یورپ کی کامن مارکیٹ بناتے ہوئے یہاں کے ذی شعور لیڈروں نے پہلے اقتصادی تعاون کی بات