خلیج کا بحران — Page 327
۳۲۷ ۸ مارچ ۱۹۹۱ء استعماریت کے لحاظ سے ہوں گے۔جب روس نے موجودہ مشکلات سے سنبھالا لے لیا اور ان پر جب عبور پالیا تو اس کے بعد روس کے لئے اقتصادی مقابلے کے لئے ان سے منڈیاں چھینے کا مسئلہ سب سے اہم مسئلہ بن جائے گا۔جرمنی ایک نئی اقتصادی قوت کے طور پر ابھرے گا اور مشرقی یورپ کے اور بہت سے ممالک جرمنی کے ساتھ اس معاملے میں اتحاد کریں گے اور ان سب کی اجتماعی اقتصادی پیداوارنٹی منڈیوں کی متقاضی ہوگی۔پس تیسری دنیا کے تمام ممالک کے لئے ہولناک خطرات در پیش ہیں۔یورپ بھی جاگ رہا ہے اور امریکہ بھی جاگ رہا ہے اور ان سب کے مجموعی مقاصد تیسری دنیا پر اس طریق پر مکمل اقتصادی قبضہ کرنے کے ہیں کہ جس کے بعد صرف سسک سسک کر دم لینے والی زندگی باقی رہ جائے گی۔عزت کے ساتھ دو وقت کی روٹی کھا کر زندہ رہنے کا تیسری دنیا کی قوموں کے لئے کوئی سوال باقی نہیں رہے گا۔افریقہ کے بعض ممالک ہیں جو ابھی اس حالت کو پہنچ چکے ہیں کہ جہاں ان کے لئے سانس لینا بھی دوبھر ہورہا ہے۔اقتصادی تعاون اور با ہمی مسائل کو حل کرنے کی ضرورت پس اقتصادی تعاون کی مختلف منڈیاں بنی ضروری ہیں۔مثلاً پاکستان اور ہندوستان اور بنگلہ دیش اور سری لنکا ، یہ ایک ایسا خطہ ہے جس میں قدرتی طور پر اقتصادی تعاون کی منڈی بنانے کا امکان موجود ہے اور یہ بھی ممکن ہے اگر ان کے اندرونی مسائل حل ہوں۔اگر اندرونی مسائل حل نہ ہوں تو یہ نہ اقتصادی منڈیاں بن سکتی ہیں نہ موجودہ تکلیف دہ صورتحال کا کوئی دوسرا حل ممکن ہے موجودہ تکلیف دہ صورتحال سے مراد وہ صورتحال ہے جو میرے ذہن میں ہے کہ جس کے نتیجے میں آپ جب اس پر مزید غور کریں گے تو آپ یہ دیکھ کر حیران ہوں گے کہ ہمیشہ کے لئے تیسری دنیا کے ان ممالک کا اپنی مصیبتوں سے نجات پانے کا ہر رستہ مسدود ہوا پڑا ہے۔ان کے لئے کوئی نجات کی راہ نہیں ہے اور آنکھیں بند کر کے یہ اسی ناقابل فہم طرز فکر پر قائم ہیں، اس قسم کے مسائل کو حل کرنے کی ان کی کوششیں ہیں جن کے اندر حل ہونے کی کوئی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ایسے بند رستے ہیں جن سے آگے