خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 158 of 376

خلیج کا بحران — Page 158

یچ کا بحران ۱۵۸ ۱۸؍ جنوری ۱۹۹۱ء انتہائی خوفناک حالات کو جنم دینے والی جنگ پس جہاں تک مقاصد کا تعلق ہے ، مقصد کے لحاظ سے اس نہایت ہی خوفناک جنگ کا فائدہ صرف اور صرف اسرئیل کو ہے۔جہاں تک اقتصادی فوائد کا تعلق ہے یہ تمام تر فائدہ مغربی ملکوں کو ہے وجہ یہ ہے کہ جو بھی ہتھیار یہاں استعمال کئے جارہے ہیں روس سے صلح کے نتیجے میں ان ہتھیاروں کی قیمت مٹی ہو چکی تھی کوئی بھی حیثیت باقی نہیں رہی تھی اور جو زیادہ تر بل ہے وہ ان ہتھیاروں کی قیمت کے طور پر ہے جہاں تک ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات ہیں وہ تو سارے کلیۂ ان کے مفت تیل پر ہیں اور اگر صرف نصف بل بھی بنے تب بھی ان کی بچت کا جو مارجن (Margin) ہے یعنی جتنے فی صد بچت ان کو ہوگی وہ بھی غیر معمولی ہے پس اس جنگ کا اقتصادی فائدہ کلیۂ ان مغربی طاقتوں کو حاصل ہے جو اپنے فرسودہ ہتھیار یا نئے ہتھیار ایک ایسی جنگ میں استعمال کر رہے ہیں جس جنگ کی قیمت وہ کسی اور فریق سے وصول کر رہے ہیں۔پس جنگ کی محنت کرنے والے مغربی لوگ ، جنگ میں چند نقصانات اٹھانے والے یعنی چند جانی نقصانات اٹھانے والے مغربی لوگ اور اس کے نتیجے میں بے شمار اقتصادی فائدہ حاصل کرنے والے بھی مغربی لوگ۔عالم اسلام کو اس کے شدید نقصانات ہیں اگر عراق کلیہ تباہ ہو جائے تو یہی نقصان ایک بہت بڑا نقصان ہے جس کے بعد بیسیوں سال تک مسلمان روئیں گے لیکن اس کو نظر انداز بھی کر دو تو اس جنگ کے بعد جو نقشہ ابھرے گا وہ نہایت ہی خطرناک ہوگا۔ایک تو یہ خطرہ فوری طور پر لاحق ہے کہ صدر صدام نے اگر ایک اور ایسی غیر ذمہ دارانہ حرکت کی کہ اسرائیل کو اس غرض سے ملوث کرنے کی کوشش کی کہ جو مسلمان ممالک مغربی طاقتوں کا ساتھ دے رہے ہیں وہ ان سے بٹ جائیں تو اسرائیل جب اپنی انتہائی بہیمانہ انتقامی کارروائی کرے گا تو کسی مغربی طاقت نے اس کے ہاتھ نہیں روکنے نہ ان کو اس بات کی پرواہ ہوگی اور اس پر بھی ان ہی مسلمانوں کے دل دیکھیں گے جو بالکل بے بس ہیں اور جن کا کوئی اختیار نہیں ہے اور وہ اسلام اور محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم