خلیج کا بحران — Page 159
۱۵۹ ۱۸؍ جنوری ۱۹۹۱ء اور خدا سے شدید محبت رکھتے ہیں جو انصاف سے محبت رکھتے ہیں۔جو امن عالم سے محبت رکھتے ہیں اور اس کے بعد اس کے نتیجے میں تمام عالم اسلام میں ایک ہیجان پیدا ہو جائے گا۔اگر چہ ظاہری طور پر یہ جنگ جیت جائیں گے مگر بدامنی کے اتنے شدید خوفناک بیج بوڈالیں گے کہ وہ جگہ جگہ اُگیں گے اور اس کے نتیجے میں پھر بدامنیاں پیدا ہوں گی اور بدامنی کی آماجگاه مسلمان ممالک بنیں گے۔کہیں اس کے ردعمل میں مسلمان حکومتوں کا تختہ الٹانے کی کوشش کی جائے گی۔کہیں اس کے نتیجے میں وہ خوفناک مولویت ابھرے گی جس کا قرآن سے تعلق نہیں بلکہ وسطی تاریخ سے تعلق ہے۔Middle Ages سے تعلق ہے اور وہ قیادت جو مذہبی جنون سے تعلق رکھتی ہو بظا ہر خدا کی محبت اور رسول کی محبت اور قرآن کی محبت سے تعلق رکھتی ہو جو سیاسی نتائج کی وجہ سے ظہور پذیر ہو وہ قیادت ہمیشہ مزید ہلاکت پیدا کرنے والی ہوتی ہے اور اقوام کو مزید پہلے سے بھی بدتر حال کی طرف لے جاتی ہے۔پس بے انتہاء مسائل ہیں جو اس خوفناک جنگ کے بعد ظاہر ہونے والے ہیں اور ہوتے چلے جائیں گے اور امن عالم کے لئے ان میں سے ہر خطرہ ایک مزید خطرے کا پیش خیمہ بن جائے گا کیونکہ اس قسم کے دھما کے جو مذہبی جنون کے نتیجے میں ہوں یا سیاسی احساس محرومی کے نتیجے میں ہوں۔یہ دھما کے دور دور تک اثر انداز ہوتے ہیں۔جن کا نوں تک ان کی گونج پہنچتی ہے کان وہ گونج دل کے ارتعاش میں تبدیل کر دیا کرتے ہیں اور وہ دل کے ارتعاش پھر دماغ تک پہنچتے ہیں اور سکیموں میں بدل جایا کرتے ہیں۔دھما کا خواہ کویت میں ہو، خواہ مصر میں ہو، خواہ سوڈان میں ہو ، دنیا کے کسی ملک میں بھی ہو مسلمانوں کو ہر جگہ اس کی دھمک سے ایک شدید تکلیف پہنچے گی اور ہیجان پیدا ہوں گے اور اس کے نتیجے میں اور کئی قسم کی تحریکیں جنم لیں گی اور یہ دھما کا اگر قومیت سے تعلق رکھے تو اس کے نتیجے میں قوموں میں اس سے ارتعاش پیدا ہوتا ہے اور ارتعاش پیدا ہوگا بہر حال یہ ایک لمبی تفصیل ہے اس معاملے کو وضاحت سے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔آپ اسے جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ بدامنی کے جو موجودہ حالات ہیں یہ ختم ہونے کے بعد بدامنی ختم نہیں ہوگی بلکہ بہت وسیع پیمانے پر جاری ہوگی اور ایک