خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 157 of 376

خلیج کا بحران — Page 157

۱۵۷ ۱۸/جنوری ۱۹۹۱ء ہے اس میں بڑی گہری حقیقت ہے۔اس سے کوئی انکار نہیں کہ اس وقت یہ صورت حال ہو چکی ہے لیکن ایک بات سے مجھے شدید اختلاف ہے کہ اس نے کہا کہ تم نے ان پر احسان کیا ہے۔یہ بالکل جھوٹ ہے۔مغرب نے نہ عالم اسلام پر کوئی احسان کیا ہے اس لڑائی میں حصہ لے کر نہ اُن مسلمان ممالک پر احسان کیا ہے جن کے نام پر یہ لڑائی لڑی جارہی ہے بلکہ ہمیشہ کی طرح اپنے ان مفادات کو حاصل کرنے کی ایک بہت ہی خوفناک کوشش ہے جو اس جدید تاریخ میں ہمیشہ سے اسی طرح کارفرمارہی ہے۔کوششیں ہمیشہ ہوتی رہی ہیں کہ جب بھی دنیا میں کہیں بدامنی ہو اس کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ فائدہ ترقی یافتہ قوموں کو پہنچے۔پس اس صورت حال کے پیش نظر اگر آپ مزید تجزیہ کریں تو آپ کو میری بات کی خوب سمجھ آجائے گی کہ فائدے کس کے ہیں۔یہ جو بے شمر جنگی ہتھیار اور جدید ترین جنگی ہتھیار میدان جنگ تک پہنچائے جارہے ہیں ان پر بے انتہا خرچ آ رہا ہے۔ارب ہا ارب ڈالرز ، آپ تصور ہی نہیں کر سکتے یوں سمجھیں کہ دولتوں کے پہاڑ خرچ ہور ہے ہیں اور ایک بات آپ نے سنی تھی کہ معاہدہ ہو چکا ہے کہ اس میں سے نصف سعودی عرب ادا کرے گا۔دوسرے نصف کی کوئی بات نہیں کی گئی۔یہ نہیں بتایا گیا کہ دوسرا نصف کس کس مسلمان ملک کے حصے میں آئے گا کس کے ذمے،کس کے کھاتے میں ڈالا جائے گا اور میں آپ کو یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ دوسرے نصف کا بڑا حصہ کو یت اور بحرین اور اسی طرح شیخڈم کی دوسری ریاستیں ادا کریں گی۔اگر پورا نہیں تو لازماً ایک بڑا حصہ ان سے وصول کیا جائے گا۔پس اس جنگ کا آخری واضح نقشہ یوں ابھرتا ہے کہ کسی ایسی طاقت کو فائدہ پہنچ رہا ہے جو خود جنگ میں شریک ہی نہیں ہے اور وہ اسرائیل ہے۔آج کے ایک انٹرویو میں ایک مغربی مفکر یا سیاستدان نے کھل کر اس بات کو تسلیم کیا کہ ہم جو کہتے تھے کہ عراق کو تباہ کرو۔اب تمہیں سمجھ آگئی ہے ناں کہ کیوں کہتے تھے۔یہ سکڈ میزائلز جو پوری طرح چل نہیں سکے اگر یہ اسی طرح رہ جاتے اور یہ جنگ نہ ہوتی تو آخر کار ان میزائلز کو زیادہ ہولناک طاقت کے ساتھ اسرائیل کے خلاف استعمال کیا جانا تھا۔