خواب سراب — Page 103
تو غم کیا ہے! رضائے یار ہے جب انتہا تو غم کیا ہے اگر جدائی ہے اُس کی رضا تو غم کیا ہے مرا یہ دل یہ مری جان، سب اسی کا ہے جو ایک زخم ہے اُس کی عطا تو غم کیا ہے وصال یار کا رستہ ہے قتل گاہوں سے تو آ گیا ہے اگر کر ہلا تو غم کیا ہے پھر اس سے کیا کہ مقابل ہے کون صف آراء جو میرے ساتھ ہے تیری دُعا تو غم کیا ہے انہیں بھی شوق ہے کچھ دشمنی نبھانے کا مجھے بھی ناز میں اہل وفا تو غم کیا ہے 103