خواب سراب — Page 102
عاشق کے لئے ہجر کا دریا ہو یا صحرا جس پار ہے محبوب، اُسی پار سے خُوشبو قاتل نے مٹائے ہیں نشاں میرے لہو کے روتا ہے کہ جاتی نہیں تلوار سے خُوشبو عطار سے قربت کا کرشمہ ہے مبارک مٹی پہ بھی لکھتے ہو تو اشعار سے خُوشبو 102
by Other Authors
عاشق کے لئے ہجر کا دریا ہو یا صحرا جس پار ہے محبوب، اُسی پار سے خُوشبو قاتل نے مٹائے ہیں نشاں میرے لہو کے روتا ہے کہ جاتی نہیں تلوار سے خُوشبو عطار سے قربت کا کرشمہ ہے مبارک مٹی پہ بھی لکھتے ہو تو اشعار سے خُوشبو 102