خواب سراب

by Other Authors

Page 104 of 129

خواب سراب — Page 104

(2009) ابھی ہیں لوگ کچھ سقراط کے قبیلے جو زہر خند ہے ظالم ہوا تو غم کیا ہے یہ اور بات ہے یہ لکھ کے میں بہت رویا وہ ہو گیا ہے اگر بے وفا تو غم کیا ہے یہ بات طے ہے، امانت پہ حق نہیں ہوتا خدا کی چیز خدا لے گیا تو غم کیا ہے میں اس کے نام کی قسمیں اُٹھا کے کہتا ہوں یہ امتحان ہے اس کی رضا تو غم کیا ہے گلاب شخص وہ ملتا ہے مسکرا کے مجھے جو سارا شہر ہے مجھ سے خفا تو غم کیا ہے 104