خواب سراب

by Other Authors

Page 101 of 129

خواب سراب — Page 101

دس ہیں میں مل جاتی ہے بازار سے خُوشبو دس میں میں مل جاتی ہے بازار سے خُوشبو بہتر ہے مگر آئے جو کردار سے خُوشبو یہ دل تو عقیدت کے گلابوں سے دُھلا ہے ہے اسے خاک رہ یار سے ، خُوشبو آتی وہ آنکھ جو دیکھے تو شرابوں کو نشہ ہو ہاتھ جو چھو لے تو گنہ گار سے خوشبو وہ یہ کون گلابوں سا گزرتا ہے گلی سے آئی ہے در و بام سے دیوار سے خُوشبو اک بار مجھے خواب میں وہ شخص ملا تھا آتی ہے میرے آج بھی اشعار سے خوشبو 101