خواب سراب — Page 100
کاش مجھے وہ چاند کہے، آمیرے پاس بھی بیٹھ ویسے میں جو بیٹھ گیا تو اُٹھنے والا نہیں اپنے رب سے کہتا ہوں میں اپنے سارے غم میں لوگوں میں بیٹھ کے آنسو بیچنے والا نئیں میں ہوں عشق قبیلے سے اور دُکھ میری میراث مر سکتا ہوں، عشق مرا یہ مرنے والا نئیں 100