کسر صلیب — Page 388
PAA عیسائی اس دلیل کے جواب میں کہا کرتے ہیں کہ حضرت مسیح مرنے کے بعد زندہ ہو گئے تھے اور اور ان کو خدا کی طرف سے ایک جلالی جسم عطا ہوا تھا لیکن اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السّلام نے یہ تنقید فرمائی ہے کہ اگر ان کو ملنے والا جسم جلالی تھا تو پھر اس پر نہ خموں کے نشان کیوں باقی رہے ؟ زخموں کا موجود ہونا اس بات کو واضح کرتا ہے کہ مسیح کا جسم وہی تھا جب کسی ساتھ ان کو صلیب دیا گیا تھا۔ہاں علاج کے نتیجہ میں زخم تو درست ہو گئے تھے لیکن ان کے نشانات باقی تھے۔پس حادثہ صلیب کے بعد کے ان واقعات کو باہم ملانے سے ایک زبر دست دلیل بنتی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے تھے۔ارشاد خداوندی فَقُلْنَا اضْرِبُوهُ بِبَعْضِهَا میں بھی اسی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السّلام اس دلیل کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :- " منجملہ ان شہادتوں کے جو انجیل سے ہمیں مسیح ابن مریم کی صلیبی موت سے محفوظ رہنے جو کی W پرھتی ہیں اس کا وہ سفر دور دراز ہے جو قبر سے نکل کر جلیل کی طرف اس نے کیا " اے (۲) مرقس کی انجیل میں لکھا ہے کہ وہ قبر سے نکل کہ جلیل کی سڑک پر جاتا ہوا دکھائی دیا اور آخران گیاراں حواریوں کو ملا جبکہ وہ کھانا کھا رہے تھے اور اپنے ہاتھ اور پاؤں جو نہ تھی زہ تھے دکھائے اور انہوں نے گمان کیا کہ شاید یہ روح ہے تب اس نے کہا کہ تجھے چھوڑ اور ہو کیونکہ روح کو جسم اور ہڈی نہیں جیسا کہ مجھ میں دیکھتے ہوا در ان سے ایک بھونی ہوئی مچھلی کاٹکڑا اور شہد کا ایک چھتا لیا اور ان کے سامنے کھایا۔دیکھو مرقس باب ۱۹ آیت ۱۴ اور لوقا باب ۲۴ آیت ۳۹ اور ہم۔اور الم اور ۴۲ - ان آیات سے ۴۰ یقینا معلوم ہوتا ہے کہ مسیح ہر گنہ آسمان پہ نہیں گیا بلکہ قبر سے نکل کر جلیل کی طرف گیا اور معمولی قیم اور معمولی کپڑوں میں انسانوں کی طرح تھا۔اگر وہ مرکو زندہ ہوتا تو کیونکہ ممکن تھا کہ۔جلالی جسم میں صلیب کے زخم باقی رہ جاتے۔اور اس کو روٹی کھانے کی کیا حاجت تھی اور اگر تھی تو پھر اب بھی روٹی کھانے کا محتاج ہوگا " سے ہو (۳) انجیل سے ثابت ہے کہ عیسوع صلیب سے نجات پا کر پھر اپنے حواریوں کو ملا اور ان کو اپنے زخم دکھلائے اور ممکن نہیں کہ یہ زخم اس حالت میں موجود رہ سکتے کہ جبکہ یسوع ے مسیح ہندوستان میں ۲۵۳ جلد ۱ سے الفاط - جلدها : : ۲۲