کسر صلیب — Page 387
FAL ایک اور بات سامنے آتی ہے جو اسے مدت تک زندہ رہنے نہ دیتی اور وہ یہ کہ جب یوسف آرمیتیہ اور نفود ہمیں نے اس پر خوشبوئیں ملنی شروع کیں اگر وہ اس وقت زندہ ہوتا تو دم گھٹ کر مرجاتا کیونکہ لکھا ہے کہ وہ کوئی پچاس سیر مر اور عود اپنے ساتھ لائے تاکہ ان چیزوں کو اس کے جسم پر تکلیں " سے اس حوالہ پر کسی تبصرہ کی خاص ضرورت نہیں۔یہ حوالہ عیسائیوں کی ناکامی اور شکست کے بعد ان کے ندیوحی حرکات پر اللہ آنے کی غمازی کرتا ہے یہ غزلہ اس وجہ سے بھی باطل ہے کہ خود ڈاکٹر جمیں سٹا کر کے حوالہ میں اس کا جواب پہلے آچکا ہے کہ اس زمانہ میں رواج ہی یہی تھا کہ اتنی زیادہ مقدار میں دوائیں سکتے تھے اور جب چالیس دن علاج ہوا ہو تو یہ مقدر الہ کچھ نہ یادہ بھی نہیں۔بہر حال اس دلیل سے بھی مسیح علیہ السلام کی صلیبی موت کی تردید ہوتی ہے۔حضور فرماتے ہیں:۔یہی رائے یورپ کے محقق علماء کی بھی ہے دیتی یہ کہ وہ صلیب پر نہیں کرتے تھے ناقل) بلکہ وہ صلیب پر سے نیم مردہ ہو کر بچ گئے “ سے پس بد کوره بالا ساری بحث کا خلاصہ یہی ہے کہ حادثہ ملیب کے بعد حضرت مسیح کا علاج معالجہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ وہ اس وقت بقید حیات تھے۔پس حق وہی ہے کہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا اور محق عیسائی پادریوں نے تسلیم کیا ہے کہ حضرت مسیح صلیب پر بے ہوش ہو گئے تھے اور علاج کے بعد ہوش میں آگئے۔یہ تحقیق حضرت سی علیہ السلام کے صدی سے زندہ پنچ نکلنے کا بہت واضح ثبوت ہے۔اٹھار مقوی دلیل حضرت مسیح علیہ السلام کے زندگی کے واقعات جو ان کو حادثہ صلیہ کے بعد پیشیں آئے۔اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہیں کہ وہ صلیب پر ہر گنہ فوت نہیں ہوئے تھے۔چنانچہ اناجیل سے ثابت ہوتا ہے۔کہ حضرت مسیح علیہ السلام اس حادثہ صلیب کے بعد حواریوں کو نظر آئے ، ان کے تعجب کونے پہ کہ یہ نہ مادہ کیسے ہو گئے ان کو اپنا جسم اور اس کے زخم دکھائے ، ان کے ساتھ مل کر کھانا کھایا ، باتیں کیں اور رات بسر کی اور پھر اس کے بعد کلیل کی طرف سفر کیا جو وہاں سے کافی دور ایک علاقہ تھا۔یہ سب واقعات ، جو انا جیل سے ثابت ہوتے ہیں۔کسی مردہ انسان کے ساتھ پیش نہیں آسکتے۔پس ثابت ہوتا ہے کہ مسیح صلیب پر ہر گز نہیں مرے تھے۔اگر وہ کر گئے ہوتے تو یہ واقعات کیسے پیش آسکتے تھے۔-: معجزات مسیح مقدمه من ١٢ : :- چشمه مسیحی ص - جلد ۲۰ به