کسر صلیب

by Other Authors

Page 223 of 443

کسر صلیب — Page 223

۲۳۳ سراسر انکساری کے طور پر حضرت مسیح کی خدمت میں یوں عرض کی کہ اسے استنادا ہم تم سے ایک نشان دیکھنا چاہتے ہیں۔اس کے جواب میں حضرت مسیح نے انہیں مخاطب کر کے یہ الفاظ استعمال کئے کہ اس زمانہ کے بد اور حرام کا رلوگ نشان ڈھونڈتے ہیں۔۔۔۔۔۔الخ اور پھر اسی پر بس نہیں بلکہ وہ ان معززہ بزرگوں کو ہمیشہ دشنام دہی کے طور پر یاد کرتے رہے۔کبھی انہیں کہا اسے سانو! اسے سانپ کے بچو۔دیکھو متی باب ۲۳ آیت ۳۳ کبھی انہیں کہا اندھے۔دیکھو متی باب ۱۵ آیت ۲۴ اکبھی انہیں کہا اسے ریا کا رو دیکھو کارو متی باب ۲۳ آیت ۱۳ کبھی انہیں نہایت فحش کلمات سے یہ کہا کہ کنجریاں تم سے پہلے خدا تعالیٰ کی بادشاہت میں داخل ہوں گی اور کبھی ان کا نام سور اور کتا رکھا۔دیکھو متی باب ۲۱ آیت ۳۱ اور کبھی انہیں احمق کہا۔دیکھو متی باب ۲۳ آیت ۷ کبھی انہیں کہا کہ تم جہنمی ہو دیکھو متی باب ۲۳ آیت ۱۶ حالانکہ آپ ہی علم اور خلق کی نصیحت دیتے تھے۔بلکہ فرماتے ہیں کہ جو کوئی اپنے بھائی کو احمق کہے جہنم کی آگ کا سزاوار ہو گا یا اے پھر حضور فرماتے ہیں :- "انجیلوں میں بہت سے ایسے کلمات پائے جاتے ہیں جن سے نعوذ باللہ حضرت مسیح کا دروغ گو ہونا ثابت ہوتا ہے مثلاً وہ ایک چور کو وعدہ دیتے ہیں کہ آج بہشت میں تو میرے ساتھ روزہ کھولے گا اور ایک طرف وہ خلاف وعدہ اسی دن دوزخ میں جاتے ہیں۔اور تین دن دوزخ میں ہی رہتے ہیں " سے عیسائی حضرات کو جو حضرت مسیح کے اخلاق کو بڑے زور سے الوہیت کی دلیل کے طور پر پیش کیا کرتے ہیں۔ملزم کر تے ہوئے حضرت مسیح پاک علیہ السلام فرماتے ہیں :- " تکبر اور خود بینی جو تمام بدیوں کی جڑ ہے وہ تو لیسوع صاحب کے ہی حصہ میں آئی ہوئی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس نے آپ خدا بن کر سب نبیوں کو رہزن اور بیمار اور ناپاک حالت کے آدمی قرار دیا ہے۔حالانکہ یہ اقرارہ بھی اس کے کلام سے نکلتا ہے کہ وہ خود بھی نیک نہیں ہے مگر افسوس کہ تکبیر کا سیلاب اس کی تمام حالت کو یر باد کر گیا ہے۔کوئی بھلا آدمی گذشتہ بزرگوں کی مذمت نہیں کرتا۔لیکن اس نے پاک نبیوں کو رہزنوں اور بیماروں کے نام سے موسوم کیا ہے۔اس کی نہ بان پر ه از ار او بام حصہ اول حاشیه من اجلد ۶۳ که در چشم مسیحی ملت ریحانی خزائن جلد ۲۰ با