کسر صلیب

by Other Authors

Page 222 of 443

کسر صلیب — Page 222

حضرت مسیح علیہ السلام کے قول کے بارہ میں فرمایا۔انجیل میں بغیر کسی شرط کے ہر ایک جگہ عضو اور در گذرس کی ترغیب دی گئی ہے اور انسانی دوسرے مصالح کو جن پر تمام سلسلہ تمدن کا چل رہا ہے پامال کر دیا ہے اور انسانی قومی کے درخت کی تمام شاخوں میں سے صرف ایک شاخ کے بڑھنے پر زور دیا ہے۔اور باقی شاخوں کی رعائیت قطعا ترک کر دی ہے؟ لیے لیکن کیا مسیح علیہ اسلام نے خود اس سراسر عفو و در گزر کی تعلیم پرعمل کیا ہے حضور فرماتے ہیں :- حضرت عیسی علیہ السلام نے خود اخلاقی تعلیم پر مل نہیں کیا۔انجیر کے درخت کو بغیر کھیل کے دیکھ کر اس پر بد دعا کی اور دوسروں کو دُعا کہ نا سکھلایا اور دوسروں کو یہ بھی حکم دیا کہ تم کسی کو احمق مت کہو۔اور خود اس قدر بد زبانی میں بڑھ گئے کہ یہودی بنز رگوں کو طلع الحرام تک کہ دیا اور ہر ایک وعظ میں یہودی علماء کو سخت سخت گالیاں دیں اور بر سے بڑے اُن کے نام رکھنے " ہے پس قول و فعل کا یہ تضاد ظاہر کرتا ہے کہ حضرت مسیح ہرگز خدا نہ تھے۔اٹھار تنوين دليل الوہیت مسیح کی تردید میں ایک اور دلیل یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی اخلاقی حالت ایسی ہے کہ وہ خدا کی طرف منسوب نہیں کی جاسکتی۔خدا کی ہستی ہر کمزوری ہر عیب ہر خامی اور تلخ کلامی سے بہت بالا ہے۔اس کی نسبت اس قسم کا کوئی خیال کرنابھی گستاخی ہے لیکن انتہائی افسوس ہے کہ مسیحی حضرات جس ہستی کو الوہیت کے منصب پر فائز کرتے ہیں وہ انہ روئے انجیل اخلاقی لحاظ سے بہت ہی کمزور اور قابل اعتراض نمونہ کا مالک ہے۔اگر حضرت مسیح علیہ السلام کے حالات اور واقعات پر انجیلی بیانات کی روشنی میں غور کیا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ ان کی اخلاقی حالت ہرگستہ اس قابل نہیں کہ ان کو ایک شریف انسان یانبی بھی کہا جائے۔چہ جائیکہ ان کو خدا سمجھ لیا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس سلسلہ میں فرماتے ہیں :- تقیمیوں اور فرمینوں کو مخاطب کر کے حضرت مسیح نے غیر مہذب الفاظ استعمال کئے بکہ تعجب تو یہ ہے کہ ان یہودیوں کے معزز بزرگوں نے نہایت نرم اور مودبانہ الفاظ سے ه سه : چشمه سیحی صدا روحانی خزائن جلد ۲۲۰