کسر صلیب — Page 192
۱۹۲ عاجز بند سے آزمائے جاتے ہیں۔وہ شیطان سے آن مایا گیا۔پس اس سے ظاہر ہے کہ وہ ہر طرح عاجزہ ہی عاجز تھا۔مخرج معلوم کی راہ سے چوپلیدی اور ناپاکی کا میرزہ ہے تولد یا کہ مدت تک بھوک اور پیاس اور درد اور بیماری کا دکھ اٹھا تارہا۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ وہ بھوک کے دکھ سے ایک انجیر کے نیچے گیا مگر چونکہ انجیر پھلوں سے خالی پڑی ہوئی تھی۔اس لئے محروم رہا اور یہ بھی نہ ہو سکا کہ دو چار انجیریں اپنے کھانے کے لئے پیدا کر لیتا غرض ایک مدت تک ایسی ایسی آلودگیوں میں رہ کہہ اور ایسے ایسے دکھ اٹھا کر باقرار عیسائیوں کے مرگیا اور اس جہاں سے اُٹھایا گیا۔اب ہم پوچھتے ہیں کہ کیا خداوند قادر سلق کی ذات میں ایسی ہی صفات نا قصہ ہونی چاہئیں۔؟ کیا وہ اسی سے فروسی اور ذوالجلال کہلاتا ہے کہ وہ ایسے عیبوں اور نقصانوں سے بھرا ہوا (4) افسوس عیسائیوں نے بہت سی جعلسازیاں تو کیں مگر یہ جعلسازی نہ سوجھی کہ مسیح کو بھی منہ کے راستہ سے ہی پیدا کر تھے اور اپنے خدا کو پیشاب اور پلیدی سے بچاتے اور نہ یہ سوجھی کہ موت جو حقیقت الوہیت سے بکلی منافی ہے اس پر وارد نہ کر تے اور نہ یہ خیال آیا کہ جہاں مریم کے بیٹے نے انجیلوں میں اقرار کیا ہے کہ میں نہ نیک ہوں اور نہ دانا مطلق ہوں نہ خود بخود آیا ہوں نہ عالم الغیب ہوں نہ فائر ہوں نہ دعا کی قبولیت میرے ہاتھ میں ہے۔لیکن صرف ایک عاجز بندہ اور مسکین آدم زاد ہوں کہ جو ایک مالک رب العالمین کا بھیجا ہوا آیا ہوں ان سب مقاموں کو انجیل سے نکال ڈالنا چاہیے " سے + (<) کیا کوئی کانشنس یا نور قلب اس بات کو قبول کر سکتا ہے کہ ایک عاجز انسان جو گذشتہ نبیوں سے بڑھو کہ ایک ذرہ بھر کوئی کام دکھلا نہ سکا۔بلکہ ذلیل ہو دیوں سے ماریں کھانا رہا۔وہی خدا اور وہی زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا اور مجرموں کو سزا دینے والا ہے اور کیا کوئی منتقل قبول کر سکتی ہے کہ خدائے قادر باوجود اپنی بے انتہا طاقتوں کے کسی برا این احمدیه هاشیه ۴۳۲۲۳ روحانی خزائن جلد : ت: بر این احمد یه حاشیه ها روحانی خزائن جلد :