کسر صلیب — Page 191
141 ترجمہ : یہ عیسائی لوگ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ علی علیہ السلام کھانا کھاتے تھے پانی پیتے تھے اور کبھی امراض اور دردوں میں بھی مبتلا ہوتے تھے۔کبھی ان پر یشم، افسوس دکھ اور تکلیف ، بھوک اور پیاس غالب آجایا کرتی تھی۔ان کو غیب کا علم نہ تھا اور وہ خود کہتے تھے کہ میں خدا کا ایک کمزور بندہ ہوں۔میرے نفس میں خدا کے فضل کے بغیر کوئی بھلائی نہیں اور پھر وہ ران کے اعتقاد کے مطابق ) پکڑا گیا۔صلیب دیا گیا اور صلیب پر مر گیا لیکن ان ساری باتوں کے باوجود ان کے خیال میں وہ خدا ہے یا خدا کا بیٹا ہے۔اللہ ان کو سمجھ عطا کرے۔ایک طرف تو وہ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ انسان تھا۔ایک نبی تھا پھر اس پر موت آگئی ، وہ اس کو کمزوری غفلت اور بھول چوک سے بری فرار نہیں دیتے لیکن اس کے باوجود وہ یہ کہتے ہیں کہ وہ خدا ہے۔اس کا فر قوم پر حد درجہ افسوس ہے۔یہ کیسی جہالت کی بات کر تے ہیں )۔(۴) کیا عقل سلیم اس بات کو قبول کر لے گی کہ ایک مرنے والا اور خود کمزور کسی پہلو سے خدا بھی ہے۔حاشا وکلا ہر گنہ نہیں بلکہ سچا خدا وہی خدا ہے۔۔۔۔۔۔جس کو ان باتوں کی حاجت نہیں کہ کوئی اس کا بیٹا ہو اور خود کشی کمر سے تب لوگوں کو اس سے نجات ملے ہے۔(0) اگر ابن مریم کے واقعات کو فضول اور بے ہودہ تعریفوں سے الگ کر لیا جائے تو انجیلوں سے اسکی واقعی حالات کا یہی خلاصہ نکلتا ہے کہ وہ ایک عاجز اور ضعیف اور ناقص بندہ یعنی جیسے کہ بند سے ہوا کرتے ہیں اور حضرت موسیٰ کے ماتحت نبیوں میں سے ایک نبی تھا اور اس بزرگ اور عظیم الشان رسول کا ایک تابع او ریپس رو تھا اور خود اس بزرگی کو ہر گتہ نہیں پہنچا تھا یعنی اس کی تعلیم ایک اعلی تعلیم کی فرع تھی مستقل تعلیم نہ تھی اور وہ خود انجیلوں میں اقرار کہتا ہے کہ میں نہ نیک ہوں نہ عالم نصیب ہوں نہ قادر ہوئی بلکہ ایک بندہ عاجز ہوں اور انجیل کے بیان سے ظاہر ہے کہ اس نے گرفتار ہونے سے پہلے کئی دفعہ رات کے وقت اپنے بچاؤ کے لئے دُعا کی اور چاہتا تھا کہ دعا اس کی قبول ہو جائے مگر اس کی وہ دعا قبول نہ ہوئی اور نیز جیسے : نور القرآن ما حاشیه جنت - روحانی خزائن جلد ؟ :