کسر صلیب

by Other Authors

Page 193 of 443

کسر صلیب — Page 193

۱۹۳ دوسرے کی مدد کا محتاج رہے۔ہمیں کچھ سمجھ نہیں آتا کہ عیسی کے ساتھ خدا تھا کہ جو اپنی مخلصی کے لئے تمام رات رو رو کر دعا کرتا رہا۔تعجب کہ جب تینوں خدا اس کے اندر تھے تو وہ چوتھا خدا کون تھا جس کی جناب میں اس نے رو رو کر ساری رات دُعا کی اور پھر وہ دعا قبول بھی نہ ہوئی۔ایسے خدا پر کیا اُمید رکھی جائے جس پر ذلیل یہودی غالب آئے اور اس کا پیچھا نہ چھوڑا جب تک سولی پر نہ چڑھا دیا " سے (^) " تدبیر عالم اور جز اسرا کے لئے عالم الغیب ہونا ضروری ہے اور یہ خدا کی عظیم الشان یہ الہ صفت ہے مگر۔۔۔۔۔اسے قیامت تک کا علم نہیں اور اتنی بھی اسے خبرنہ بھتی کہ ہے موسم انجیر کے درخت کے پاس شدت بھوک سے بے قرالہ ہو کہ پھل کھانے کو جاتا ہے اور درخت کو جسے بذات خود کوئی اختیار نہیں ہے کہ بغیر موسم کے بھی پھیل دے سکے بد دعا دیتا ہے۔اول تو خدا کو بھوک لگنا ہی تعجب خیز امر ہے اور یہ خوبی صرف انجیلی خدا ہی کو حاصل ہے کہ بھوک سے بے قرار ہوتا ہے پھر اس پر لطیفہ یہ بھی ہے کہ آپ کو اتنا علم بھی نہیں ہے کہ اس درخت کو پھل نہیں ہے۔اور پھر اگر یہ عل نہ تھا۔تو کاش کوئی خدائی کرشمہ ہی وہاں دکھاتے اور بے بہار سے پھل اس درخت کو لگا دیتے تا دنیا کے لئے ایک نشان ہو جاتا مگر اس کی بجائے بد دعا دیتے ہیں۔اب ان ساری باتوں کے ہوتے یسوع کو خدا بنایا جاتا ہے ؟ (4) " خدائی کے لئے تو وہ جبروت اور جلال چاہیے جو ہنڈا کے حسب حال ہے لیکن سبوع اپنی عاجزی اور ناتوانی میں ضرب المثل ہے۔یہاں تک کہ ہوائی پرندوں اور لومڑیوں سے بھی اوئی درجہ پر اپنے آپ کو رکھتا ہے اب کوئی بتائے کہ کس بناء پر اسکی خدائی تسلیم کی جا دئے ہے (1۔) عجیب ہے کہ حضرت مسیح علیہ اسلام نے انسانیت کی کمزوریاں تو بہت دکھلائیں اور خدائی کی کوئی خاص قوت ظاہر نہ ہوئی۔جو غیر سے ان کو امتیاز دیتی۔تاہم وہ سیمیوں کی نظر میں خدا کر کے مانے گئے " ہے : حقیقة الوحی حاشیه مشتها روحانی خزائن جلد ۲۲ : محفوظات جلد سوم ص۳۲ : : - ه: ملفوظات جلد سوم ص۱۳ لیکچر لاہور ص زمانی خزائن جلد ۶۲۰