کسر صلیب

by Other Authors

Page 170 of 443

کسر صلیب — Page 170

خلاصہ یہ ہے کہ :۔14۔" منقول کی رو سے عیسائیوں کا عقیدہ نہایت بودا ہے بلکہ قابل شرم ہے؟ لے معیار دوم کے متعلق تحریم فرمایا :- ر یا دوسرا ذریعہ شناخت حق کا جو عقل ہے سو عقل تو عیسائی عقیدہ کو دور سے دھکے دیتی ہے۔عیسائی اس بات کو مانتے ہیں کہ جس جگہ تثلیث کی منادی نہیں پہنچی ایسے لوگوں سے صرف قرآن اور توریت کی توحید کی رو سے مواخذہ ہو گا۔شیث کا مواخذہ نہیں ہوگا میں وہ اس بیان سے صاف گواہی دیتے ہیں کہ تثلیث کا عقیدہ عقل کے موافق نہیں۔کیونکہ اگر عقل کے موافق ہوتا تو جیسا کہ بے خبر لوگوں سے توحید کا مواخذہ ضروری ہے ایسا ہی تثلیث کا مواخذہ بھی ضروری ٹھہرتا یہ ہے معیار سوم کے بارہ میں آپ نے فرمایا :- در تیسرا اوزریعہ شناخت حق کا آسمانی نشان ہیں یعنی یہ کہ سپنے مذہب کے لئے ضروری ہے کہ اس کا صرف قصوں اور کہانیوں پر سہارا نہ ہو بلکہ ہر ایک زمانہ میں اس کی شناخت کے لئے آسمانی دروازہ سے کھلے رہیں اور آسمانی نشان ظاہر ہوتے رہیں تا معلوم ہو کہ اس زندہ خدا سے اس کا تعلق ہے کہ جو ہمیشہ سچائی کی حمائت کرتا ہے۔سو افسوس کہ عیسائی مذہب میں یہ علامت بھی پائی نہیں جاتی بلکہ بیان کیا جاتا ہے کہ سلسلہ نشانوں اور معجزات کا آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گیا ہے اور بجائے اس کی کہ کوئی موجودہ آسمانی نشان دکھلایا جائے ان باتوں کو پیش کرتے ہیں کہ جو اس زمانہ کی نظر میں صرف قصے اور کہانیاں ہیں۔ظاہر ہے کہ اگر عیسوع نے کسی نہ انہ میں اپنی خدائی ثابت کر نے کیلئے چند ماہی گیروں کو نشان دکھلائے تھے تو اب اس زمانہ کے تعلیم یافتہ لوگوں کو ان ان پڑھوں کی نسبت نشان دیکھنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے کیونکہ ان بے چاروں کو کسی عاجز انسان کی خدائی سمجھ نہیں آتی اور کوئی منطق یا فلسفہ ایسا نہیں جو ایسے شخص کو خدائی کے دعوی کی ڈگری دے جس کی ساری رات کی دعا بھی منظور نہ ہو سکی اور جنسی اپنے زندگی کے سلسلہ میں ثابت کر دیا کہ اس کی روح کمزور ہے اور نادان بھی۔پس اگر یسوع اب بھی زندہ خدا ہے اور اپنے پرستاروں کی آوانہ سنتا ہے تو چاہیے کہ اپنی جماعت کو جو ایک معقول : كتاب البرية من روحانی خزائن جلد ۱۳ : ۵۲ : کتاب البريه صدا - روحانی خزائن جلد ۱۳ :